دنیا بھر سے

لڑائی ختم کرنے کے معاملہ پر پیش رفت ہوئی ہے: امریکہ- طالبان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-March-2019

13مارچ ( آئی این ایس انڈیا ) امریکہ اور طالبان نے منگل کے روز افغان سرزمین کو پھر سے دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنے کے بدلے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق سمجھوتے کا ’مسودہ طے‘ کیا ہے۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد نے اس بات کا اعلان قطر میں طالبان کے ساتھ 16 روز سے جاری طویل بات چیت کے خاتمے پر اپنی ٹویٹس میں کیا۔افغان مفاہمت کے امریکی ایلچی نے کہا ہے کہ حالانکہ بات چیت میں’اونچ نیچ ‘رہی ہے، ہم نے چیزوں کو درست سمت میں رکھا اور اصل پیش رفت حاصل کی‘۔گزشتہ سال کے موسم خزاں سے لے کر اب تک دونوں فریق نے مذاکرات کا پانچواں دور مکمل کیا۔ یہ دور 25 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوا جس ملک نے بات چیت کی میزبانی کی۔اُنھوں نے وضاحت کی ہے کہ :’جب انخلا کے نظام الاوقات اور دہشت گردی کے خاتمے کے مؤثر اقدامات سے متعلق سمجھوتے کا مسودہ طے کیا جائے گا، طالبان اور دیگر افغان جن میں حکومت بھی شامل ہے، سیاسی حل اور ایک مربوط جنگ بندی پر بین الافغان مذاکرات کا آغاز کریں گے‘۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک علیحدہ بیان میں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ فریق نے دو معاملوں پر پیش رفت حاصل کی ہے۔مجاہد نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت میں بنیادی طور پر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ :’افغانستان سے کب اور کیسے تمام غیر ملکی فوجیں واپس ہوں گی، اس کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔ ساتھ ہی افغانستان کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کس طرح یقینی دہانی کرائی جائے گی‘؟ ۔اْنھوں نے کہا کہ طالبان اور امریکی مذاکرات کار کسی متفقہ تاریخ پر بہت جلد پھر ملیں گے تاکہ پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جائے۔مجاہد نے کہا کہ اب دونوں فریق حاصل کردہ پیش رفت پر گفت و شنید کریں گے، اپنی متعلقہ قیادت کو بتائیں گے اور اگلی ملاقات کی تیاری کریں گے‘۔خلیل زاد نے کہا کہ مزید گفتگو کے لیے وہ واشنگٹن واپس جا رہے ہیں؛ لیکن اْنھوں نے اس بات کو واضح کیا کہ جب تک تمام معاملوں پر اتفاق نہیں ہو جاتا، حتمی سمجھوتا نہیں ہوگا‘۔افغان صدر اشرف غنی کی حکومت نے فوری طور پر امن عمل میں پیش رفت کے حصول کے لئے امریکی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔زلمے خلیل زاد نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 16 روز تک مذاکرات جاری رکھے، جن کے نتیجے میں مشکل معاملوں پر کوئی واضح پیش رفت حاصل نہی ہو سکی جس سے افغانستان کی 17 برس سے جاری لڑائی کا حل نکالا جا سکے۔تاہم، ایک ٹوئٹ میں، خلیل زاد نے کہا ہے کہ دونوں فریق سمجھوتے کے ایک مسودہ تک پہنچے ہیں۔ ان معاملات کا تعلق امریکی فوجوں کے افغانستان سے بالآخر انخلا، جب کہ باغیوں کی جانب سے القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے تمام مراسم توڑنے کے عزم سے ہے۔اپنے ٹوئیٹس میں خلیل زاد نے کہا ہے کہ ’امن کے لیے چار معاملوں پر سمجھوتا لازم ہے: دہشت گردی کے معاملے پر یقین دہانی، فوجوں کا انخلا، بین الافغان مکالمہ اور مربوط جنگ بندی‘۔ایک اور ٹوئٹ میں خلیل زاد نے کہا کہ جنوری کی بات چیت میں ہم ’اصولی طور پر‘ چار معاملوں پر رضامند ہوئے تھے۔ اب ہم پہلے دو معاملوں پر ’مسودہ کی حد تک متفق ہوئے ہیں‘ ۔

About the author

Taasir Newspaper