سیاست سیاست

مایاپر کانگریس کے علاوہ ایس پی سے بھی دوری بنانے کا دباؤ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-March-2019

نئی دہلی،(ایجنسی): محکمہ انکم ٹیکس نے جب بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو مایاوتی کے بھائی آنندکو آمدنی سے زیادہ پراپرٹی کے معاملے میں بلا کر پوچھ گچھ کے لئے روک لیا تھا، تو ڈری مایاوتی نے مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے وقت کانگریس کے ساتھ تال میل نہیں کرنے کی بات کہہ کر چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ مایاوتی کے وزیر اعلی رہنے کے دوران اتر پردیش کے چیف سکریٹری رہے نیت رام کے یہاں کروڑوں روپے کے فراڈ اور ٹیکس چوری کے معاملے میں انکم ٹیکس محکمہ نے 12 مارچ کو ان کے (نیت رام) دہلی، لکھنؤ کے 12 ٹھکانوں پر چھاپہ مارا تو بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ اتر پردیش میں ہی نہیں، پورے ملک میں کہیں بھی کانگریس سے اتحاد نہیں کریں گی۔ اس سلسلے میں اتر پردیش میں ملائم، مایاوتی راج کے وقت سے چلے آ رہے کئی ہزار کروڑ روپے کے اناج گھوٹالہ معاملے میں الہ آباد ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے اور ملائم سنگھ یادو، اکھلیش یادو اور دیگر متعدد پر آمدنی سے زیادہ جائیداد معاملے میں سپریم کورٹ میں کیس کرنے والے سپریم کورٹ کے وکیل وشوناتھ چترویدی کا کہنا ہے، ’12 مارچ کو نیت رام کے یہاں جو 12 جگہوں پر انکم ٹیکس کے چھاپے مارے گئے ہیں وہ ایس پی-بی ایس پی اتحاد توڑوانے، دونوں کو الگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چار ماہ پہلے ہوئے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان اسمبلی انتخابات کے وقت محکمہ انکم ٹیکس نے جب مایاوتی کے بھائی آنند کو تین دنوں تک بٹھایا، تو مایاوتی نے کانگریس سے الگ ہوئے اجیت جوگی کے ساتھ اتحاد کیا۔ یہ کانگریس کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا۔ ابھی لوک سبھا انتخابات میں SP-بی ایس پی کے اتحاد سے اتر پردیش میں ممکنہ تقریبا 45 لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی کوہو رہے نقصان کو روکنے کے لئے، اس اتحاد کو توڑنے کے لئے ڈرانے اور دباؤ بنانے کیلئے مایاوتی کے انتہائی وفادار رہے نوکر شاہ نیت رام کے یہاں انکم ٹیکس کی چھاپہ ماری کی گئی ہے۔ مایاوتی جب 2007 سے 2012 تک وزیر اعلی رہیں، اس دوران نیت ر ام ان کے بہت معتمد افسر اور ریاست کے چیف سکریٹری تھے۔ مایا دربار میں وہ نسیم الدین صدیقی سے بھی پاورفل تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ مایا کا حساب کتاب وہی رکھتے تھے۔ لہذا لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے تیسرے دن ان کے یہاں بڑی سطح پر انکم ٹیکس کی چھاپہ ماری، بی ایس پی کے وسائل کو بند کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایس پی نے کانگریس سے لوک سبھا انتخابات میں کہیں بھی تال میل نہیں کرنے کی بات کہی ہے۔ لیکن جب تک وہ سماج وادی پارٹی سے الگ ہو کر اکیلے لوک سبھا الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں کریں گی، مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی رکنے والی نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے دوران ہی مایاوتی کے بھائی آنند کے خلاف انکم ٹیکس اورای ڈی کی بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں بی ایس پی میرٹھ ڈویزن کے انچارج ایشور کا کہنا ہے کہ انتخابات کے پیش نظر اہم اپوزیشن جماعتوں کو، خاص طور پر اتر پردیش میں، پریشان کرنے کے لئے حکمراں جماعت طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے، تاکہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما ڈر کر اتحاد نہ کرنے پائیں۔ اس بارے میں ایس پی رہنما روی ورما کا کہنا ہے کہ ایس پی اور بی ایس پی کے اتحاد سے مرکز اور ریاست کی حکمراں پارٹی بہت ہی پریشان ہے۔ اسکو لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں بہت نقصان ہونے کا خوف ہے۔ اس لئے ایس پی – بی ایس پی اتحاد کو توڑنے کے لئے، دیگر کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرنے کے لئے، ان کے رہنماؤں کو ڈرانے، پریشان کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ اپنا رہی ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے ایس پی اور بی ایس پی رہنماؤں، ان کے حامیوں کے خلاف جو بھی کارروائی ہو رہی ہے، اسی مقصد سے کی جا رہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper