دنیا بھر سے

مسلم ریاست میں ’مذہب کے ذریعہ سیاسی بدعنوانی علماء کا احتجاج

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-March-2019

لندن ( آئی این ایس انڈیا ) ۔شمالی افریقی ملک الجزائر میں بہت سے مسلم علماء اس بات پر برہم ہیں کہ موجودہ حکومت اپریل میں ہونے والے آئندہ صدارتی الیکشن میں نئے سرے سے اپنی کامیابی کے لیے ’مذہب کو کرپشن‘ کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔شمالی افریقہ کی ریاست الجزائر کے دارالحکومت سے پیر گیارہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس مسلم اکثریتی ملک میں سیاسی طور پر غیر جانبدار علماء اور مساجد کے آئمہ کے گروپ نے ملک کے مذہبی امور کے وزیر سے ایک ملاقات کی ہے۔اس ملاقات میں ان علماء نے وزیر مذہبی امور کو بتایا کہ حکومت انہیں مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنے خطبات میں حکومت کے حق میں بیانات دیں۔ ان علماء کے گروپ کے سربراہ جمیل غول نے روئٹرز کو بتایا کہ :’ہم نے اس ملاقات میں ملکی وزیر سے کہا کہ ہم پر بیجا دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور ہمیں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت کے بغیر اپنا کام کرنے دیا جائے‘۔قبل ازیں الجزائر کے ایک ہزار سے زائد ججوں نے بھی یہ کہہ دیا تھا کہ اگر موجودہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اگلے ماہ ہونے والے صدارتی الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لیا، تو وہ اس صدارتی انتخابی عمل کی نگرانی نہیں کریں گے۔ یہ بات ان ججوں نے پیر کو جاری کردہ اپنے ایک متفقہ تحریری بیان میں کہی۔ ان ججوں نے اب ملکی سطح پر اپنی ایک نئی تنظیم بھی بنا لی ہے۔بوتفلیقہ کی نئے سرے سے انتخابی امیدواری کے خلاف ملک بھر میں عوامی مظاہرے اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان ججوں کے اس بیان پر ملکی وزیر انصاف نے نہ صرف ملکی عدلیہ کے ان ارکان کے موقف کی مخالفت کی بلکہ ان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ملک میں آئندہ صدارتی انتخابی عمل کے حوالے سے پوری طرح غیر جانبدار رہیں۔ صدر بوتفلیقہ کی ایک بار پھر انتخابی امیدواری کے مخالف ان ججوں نے اپنی جو نئی ملکی تنظیم قائم کی ہے، اس کا نام انصاف کے تحفے کی بحالی رکھا گیا ہے۔صدر بوتفلیقہ کافی بیمار ہیں اور وہ سوئٹزرلینڈ میں اپنی سرجری کے بعد ابھی کل اتوار دس مارچ کو ہی واپس وطن لوٹے تھے۔ اپنی وطن واپسی سے قبل انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ وہ اپریل میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے اور کامیابی کی صورت میں اپنے عہدے کی آئینی مدت پوری کرنے کے بجائے قبل از وقت ہی یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔اس وقت عبدالعزیز بوتفلیقہ کی عمر 82 برس ہے اور وہ گزشتہ 20 برسوں سے اقتدار میں ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper