کھیل

ٹیم انڈیا کے سامنے سریز جیتنے کا چیلنج

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-March-2019

نئی دہلی،. (پی ایس آئی) آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم جب بھارت آئی تھی تب کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ میزبان ٹیم کو ٹکر دے پائے گی. آسٹریلیا نے بھارتی زمین پر قدم رکھنے کے بعد تمام تصورات کو مسترد کیا اور اس پانچ میچوں کی سیریز 0-2 سے پچھڑنے کے بعد 2-2 سے برابری پر لا دی جس کا پانچواں اور فیصلہ کن میچ بدھ کو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان پر کھیلا جائے گا . پانچ بار عالمی فاتح سیریز کے ابتدائی دو میچ ہار چکی تھی لیکن اس نے بااثر واپسی کرتے ہوئے مسلسل دو میچ جیتے اور بھارت کو اس پوزیشن میں پہنچا دیا جس کی توقع اس نے اپنے گھر میں شاید نہیں کی ہوگی. پہلے دو میچ میں بھی آسٹریلیائی ٹیم کم نہیں تھی. اس نے میزبان کو برابری کی ٹکر دی لیکن آخری لمحات میں جیت اس کے ہاتھ سے نکل گئی. لیکن، آخری دو میچوں میں اس نے ایسا نہیں ہونے دیا. رانچی میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میں اس نے بہت بڑا اسکور کھڑا کیا جسے بچانے میں اس کے بولر کامیاب رہے. موہالی میں کھیلے گئے چوتھے ون ڈے میں ایشٹن ٹرنر کی طوفانی اننگز کے دم پر آسٹریلیا نے بھارت کی طرف سے رکھے گئے ہدف کو بھی حاصل کر سیریز میں برابر کر لی. ٹرنر نے بھارت کے خلاف اسی سیریز میں حیدرآباد میں ہی ون ڈے میں ڈیپو کیا تھا. گھریلو کرکٹ میں فنشر کے طور پر مشہور ٹرنر نے ہندوستانی ٹیم کے لئے نئے فکر کھڑی کر دی ہے. اس سیریز کو بھارتی ٹیم کی ورلڈ کپ کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے بعد بھارت کوئی بھی ون ڈے سیریز نہیں کھیلے گا، لیکن اس ‘تیاری’ سیریز میں بھی بھارت کے سامنے کئی مسائل سامنے آئے ہیں جنہیں انگلینڈ جانے سے پہلے نپٹانا اس کے لئے ضروری ہو گا. بھارت کا مضبوط بولنگ حملہ موہالی میں ہدف کو بھی بچا نہیں پایا. ایسا عموماً کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہندوستانی بولر اتنے رنز کھائیں، لیکن گزشتہ دو میچوں میں آسٹریلیا اس رعایت کی پوزیشن کو کوہلی کے سامنے پیش کر گئی. اس فیصلہ کن میچ میں بھی کوہلی کے سامنے یہ فکر ضرور ہوگی کہ اس کے بولر آسٹریلیائی بلے بازوں پر روک لگائیں. بھارتی ٹیم کے بولنگ کوچ بھرت ارون نے بھی گزشتہ میچ کو لے کر کہا ہے کہ اس طرح کی چیزیں کم ہوتی ہیں لیکن ہوئی ہیں تو یہ ہمارے لئے صحیح وقت پر ہوئی ہیں تاکہ ہم ان میں بہتر ی کر سکیں. بھرت نے کہا، ” اگر آپ ہمارے گیند بازوں کی کامیابی کا فیصددیکھیں تو یہ 75 فیصد تک رہی ہے. ایسی چیزیں ہوتی ہیں. میں خوش ہوں کہ یہ اس وقت ہوا جس سے ہمیں پتہ چلا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ہمیں کہاں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

About the author

Taasir Newspaper