Uncategorized

پٹنہ بم دھماکہ معاملہ:نئے جج کی تقرری کے بعد حتمی بحث شروع

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 30-March-2019

ممبئی (پریس ریلیز)بہارکی راجدھانی پٹنہ میں ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں نئے جج اجیت کمہار سنہا کی تقرری کے بعد استغاثہ نے حتمی بحث شروع کردی ہے نیز خصوصی این آئی اے عدالت نے گذشتہ سال گرفتار کیئے گئے مزید تین ملزمین پیغمبر امام، احمد علی اور نور عالم مومن کے خلاف چارج فریم کردیا ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میںملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمد نی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دیتے ہوئے مزید بتایاکہ ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو پٹنہ کے مشہور تاریخی گاندھی میدان میں بم دھماکہ ہوا تھا جب وزیر اعظم ہند نریندر مودی ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے ،اس بم دھماکہ میں ۶؍لوگ ہلاک اور ۹۰؍ افراد زخمی ہوئے تھے ۔ بم دھماکوں کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی NIA کے سپرد کی گئی جس نے بہار، جھاکھنڈ اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے ۱۰؍ اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 307,326,212,121(A), 120(B), 34 ، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3, 5 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جس کے بعد ملزمین کی پیروی کے لئے صدر جمعیۃ علماء ہندو مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ منٹو، ایڈوکیٹ سید عمران غنی، ایڈوکیٹ رنجے کمار، ایڈوکیٹ، سوریہ پرکاش سنگھ،ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان ودیگر کو مقرر کیا گیا ہے۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ اس معاملے میں متعلقہ گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں نیز نئے جج کی تقرری کے بعد استغاثہ نے حتمی بحث شروع کردی ہے ، وکلاء استغاثہ کی بحث کے بعد دفاعی وکلاء عدالت میں بحث کریں گے۔ملزمین امتیاز انصاری کمال الدین، حیدر علی عالم انصاری ،نعمان سلطان انصاری،مجیب اللہ جابر انصاری،عمیر شفیع صدیقی، اظہر الدین شکیل الدین قریشی، احمد حسین سید قریشی، فخرالدین غلام مرتضی، محمد فیروز اسلم اور محمد افتخار محمد مصطفی کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیا جن کی پیروی جمعیۃ علماء کررہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper