سیاست سیاست

یوگی حکومت کا مدرسہ اساتذہ کو3سال کی تنخواہ دینے سے انکار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-March-2019

نئی دہلی،(ایجنسی) :وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے تحت مدرسہ جدید کاری اسکیم کے لیے کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہ ملنے کا معاملہ ایک بار پھر لٹکتا نظرآرہا ہے۔ اتر پردیش حکومت نے پرانا بقایہ دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ وزارت فروغ انسانی وسائل نے گزشتہ سال اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کا علان کیا ہے۔وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلنے والی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے ٹیچر کا تقریباً 1000 کروڑ سے زیادہ بقایہ حکومت پرہے۔ 3 سال سے وزارت ان ٹیچروں کو تنخواہ نہیں دے سکی ہے۔ گزشتہ سال ستمبرمیں 440 کروڑروپئے کا پروجیکٹ اپروول بورڈ سے منظورکئے گئے تھے، لیکن اسی سال وزارت نے اپنی اسکیم کی فنڈنگ میں تبدیلی کرتے ہوئے گائیڈ لائن جاری کر دی تھی فنڈنگ کا فیصد 60 40- کردیا گیا۔ یعنی ریاستوں کو 40 فیصد فنڈنگ کرنی تھی۔خاص بات یہ تھی کہ سال 19-2018 کے ساتھ ساتھ سال 17-2016 اور سال 18-2017 کے لئے بھی ریاستوں کو پیسہ دینے کے لئے کہا گیا جس پریوگی سرکارنے ہاتھ کھڑے کردیئے اورسال 17-2016 اور 18-2017 کا پیسہ دینے سے انکارکردیا۔ وہیں دوسری طرف مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم سے وابستہ ٹیچرس فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ خودکشی تک کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارت کی اسکیم سے متعلق پروجیکٹ اپروول بورڈ کے ممبر شاہد اختر نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وزارت نے گائیڈ لائن میں تبدیلی کر دی ہے ریاستوں کوپرانا بقایہ نہیں دینا پڑے گا ۔اسکیم کی فنڈنگ 40-60 کے تناسب کو سال 19-2018 سے نافذ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سال15-2014 سے پہلے مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کا بجٹ 295 کروڑ سالانہ ہوا کرتا تھا جس کو کم کرکے 120 کروڑ کردیا گیا تھا یہ آج بھی 120 کروڑروپئے ہے۔ اس وقت مدرسہ ٹیچروں کا بقایہ 500 کروڑہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ بڑھ کر1500 کروڑکے قریب پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال 440 کروڑ روپئے جاری کرنے کی وزارت نے منظوری دی تھی جس میں سے 295 کروڑاترپردیش کے مدرسہ ٹیچروں کے لئے تھا، جو پرانا بقایہ دینے کے پیچ کے سبب ریاستوں نے نہیں دیا۔ اب گائیڈ لائن بدلے جانے کے بعد یہ پیسہ دیئے جانے کا راستہ صاف ہوا ہے اورالیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد فنڈ ریلیز ہونے کی امید ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہسال 17-2016 ، 18-2017 کے بقائے کا کیا ہوگا اوراتنا بڑا بقایہ ان ٹیچروں کو کب ملے گا اسکی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper