اسلام

احادیث فضائل شعبان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uplo0aded on 19-April-2019

اسلام اور اہل اسلام پر وہ وقت سب سے زیادہ براتھا جبکہ نبی کریمؐ کی جانب روایت گڑھ کر پیش کردیاجاتاتھا۔ انہیں میں سے فضائل شعبان کی مناسبت سے بھی بہت ساری روایتوں کو گڑھ کرکے پیش کیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین متین کی حفاظت کے لیے محدثین کرام کی جماعت (جن کا مستشرقین نے بھی اعتراف کیا ہے ) کو پیداکیا جنہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔(۱)پہلی روایت جو ابن ماجہ کی ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب کے غروب آفتاب کے بعد سے اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور یہ آواز دیتا ہے کہ کوئی معافی چاہنے والا ہے جو مجھ سے معافی چاہئے میں اس کو معاف کردوں ، کوئی روزی کا طالب ہے کہ میں رزق دوں، کوئی مصیبت زدہ ہے جو مجھ سے مصیبت کو دور کرنے کے لیے کہے اور میںاس کی مصیبت کو دور کردوں۔اسی طرح صبح صابق تک مسلسل صدادیتا رہتا ہے۔ محدثین کا فیصلہ: اس حدیث کے راوی ابو بکر بن عبدالہ ہے جو حدیثیں وضع اور گڑھ لیا کرتا تھا اس لیے یہ حدیث ضعیف ہی ہیں بلکہ موضوع ہے۔ (تحفۃ الاحوذی ج ۲ص ۵۳) دوسری روایت حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ آپؐ نے رات کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی جس میں اتنا لمبا سجدہ کیا کہ میںنے یہ خیال کیا کہ آپؐ کا انتقال ہوگیا۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں حاضر خدمت ہوئی اور آپ کے پیر کو ہلایا وہ ہل گیا میں سمجھ گئی کہ آپ زندہ ہیں پھر کان لگا کر میں نے سنا تو سجدے میں آپؐ یہ دعا پڑھ رہے تھے ،اے اللہ پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کے ساتھ، تیر عذاب سے اور پناہ چاہتی ہوں تیری خوشنودی کے ذریعے سے تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں اور تواتنی خوبیوں والا ہے کہ نہ میں اس کو گن سکتا ہوں اورنہ اتنی تعریف کر سکتا ہوں۔ تو ایسا ہے جیسے کہ تو نے اپنی تعریف کی ہے ، جب آپؐ نے سجدے سے سر اٹھایا اور نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے فرمایاکہ اے عائشہ کیا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ کے رسول تیری خیانت کریں گے اور تیری حق تلفی کرکے غیر کے پاس جائیں گے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ، اللہ کی قسم نہیں لیکن آ پ کے لمبا سجدہ کرنے کی وجہ سے میں نے یہ خیال کیا کہ شاید آپ کاانتقال ہوگیا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اے عائشہ کیا تو جانتی ہو کہ یہ کون سے رات ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ اوراس کے رسل زیادہ جانتے ہیں ، آپؐ نے فرمایا کہ آج شعبان کی پندرہویں شب ہے۔اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف نظر رحمت سے دیکھتا ہے اور معافی چاہنے والوں کو معاف کر دیتا ہے اور رحم چاہنے والوں کو رحم فرماتا ہے اور بغض ، کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔محدثین کا فیصلہ: اس حدیث کو امام بیہقی نے اپنی کتاب بیہقی کے اندر ذکر کرنے کے بعداس حدیث کی سند پربحث کرتے ہوئے حکم لگائے ہیں کہ یہ حدیث مرسل ہے ، کیوں؟ اس لیے کہ حضرت علاء بن حارث حضرت عائشہؓ سے روایت کررہے ہیں جبکہ حضرت علاء کا سماع حضرت عائشہؓ سے ثابت ہی نہیں ہے۔تیسری روایت: اس حدیث کی راویہ بھی حضرت عائشہؓ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل تشریف لاکر یہ فرماتے ہیں کہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے شمار کے برابر دوزخ سے آزاد کرتا ہے اور اس رات میں مشرک کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھتا اور نہ کینہ پرور کی طرف دیکھتا ہے اور نہ رشتہ کاٹنے والوں کی طرف دیکھتا ہے اور نہ ٹخنے سے نیچے پائجامہ لٹکانے والوں کی طرف دیکھتاہے اور نہ ماں باپ کے نافرمان کی طرف دیکھتا ہے اور نہ شراب پینے والوں کی طرف دیکھتا ہے۔ محدثین کا فیصلہ: یہ حدیث بھی موضوع ہے۔ چوتھی روایت: نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ جو شخص پندرہویںشعبان کی رات میں سو رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سو فرشتے بھیجتا ہے، تیس اسے جنت کی خوشخبردی دیتے ہیں،تیس اسے عذاب نار سے امن دیتے ہیں، تیس اسے دنیا کی بلائوں سے دور رکھتے ہیں اور دس اسے شیطان کے دھوکہ سے دور رکھتے ہیں۔ محدثین کا فیصلہ: یہ حدیث بھی موضوع ہے اس لیے کہ صاحب کشاف نے اس کو بغیر سند اور بغیر حوالے کے بیان کیا ہے۔ پانچویں روایت : اس روایت کو حضرت ابو ہریرہ ؓ کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ شعبان کی پندرہویں رات کو بارہ رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں قل ھو اللہ احد تیس تیس مرتبہ پڑھے وہ نہیں مرے گا تا وقتیکہ اپنا ٹھکانہ جنت میں نہ دیکھ لے اور اس کی سفارش اس کے گھر کے دس جہنمیوں کے بارے میں قبول کی جائے گی۔ محدثین کافیصلہ: اس حدیث کو ابن جوزی، ابن عراقی، سیوطی اور ابن حجر وغیرہم تمام لوگوں نے موضوع کہا ہے اور حدیث کے راویوں کو مجہول بتایاہے۔چھٹی روایت: حضرت علیؓ کو نبی کریمؐ نے مخاطب کیا اور کہا کہ اے علی شعبان کی پندرہویں شب کو جو سو رکعت نماز ادا کرے گا اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور دس مرتبہ قل ھواللہ احد پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت پوری کرے گا۔ محدثین کا فیصلہ: امام شوکانی’’الفوائد المجموعہ ‘‘ میں لکھتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے ،اس حدیث کے صحیح الفاظ میں اس شب کی تعظیم کرنے والوں کے لیے اس قدر ثواب کر ذکر ہے کہ صاحب تمیز اس کے موضوع ہونے میں شب نہیں کرسکتاا ور اس حدیث کے راوی بھی مجہول ہیں ،اس کے علاوہ دو اور طریق سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن تمام کے تمام موضوع اور ان کے راوی مجہول ہیں۔نیز انہوں نے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ نصف شعبان کی نماز باطل ہے نیز صحیح ابن ماجہ میں حضرت علی ؓ کی یہ روایت کہ شب نصف شعبان کا قیام کرو اور ان کا روزہ رکھو ضعیف ہے۔امام سیوطی کا کلام: امام سیوطی ؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ نصف شعبان کو سو رکعت دس مرتبہ سورہ اخلاص کے ساتھ ادا کرنا بہت زیادہ فضیلت رکھتا ہے موضوع ہے اوراس کی تینوں سندوں کے اکثر راوی مجہول اور ضعیف ہیں اور اسی طرح بارہ رکعت تیس مرتبہ سورہ اخلاص کے ساتھ اور چودرہ رکعت والی حدیث بھی موضوع ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عائشہؓ کی مروی حدیث ضعیف اور منقطع ہے ،اسی طرح حضرت علی ؓ کی روایت کردہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ ساتویں روایت: حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں پندرہویں شب کی رات میں رسول اللہ کو موجود نہیں پائی اورباہرنکلی تو جنت البقیع میں آپ کو پایا۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ تو اندیشہ کررہی تھی کہ اللہ اوراس کے رسول تمہاری حق تلفی کریں گے۔ میں نے کہا کہ میرے سمجھ میں یہ بات آئی کہ آپ دوسری بیوی کے یہاں تشریف لے گئے ہوں گے، آپ ؐ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمان دنیا میں نزول فرما کر قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ میں مغفرت فرماتا ہے۔ (رواہ احمد فی مسندہ ۶؍۳۳۳۸، الترمذی فی سنن ابواب الصیام ۲؍۲۱، ۱۲۲ برقم ۸۳۶ابن ماجہ فی سننہ، کتاب اقامۃ الصلوٰۃ؍ ۴۴۴ برقم ۹۱۵) محدثین کا فیصلہ: ( ضعفہ البخاری و الترمذی و ابن ماجہ و ابن الجوزی والدارقطنی والالبانی و ابن باز رحمہ اللہ علیہ جمیعا و سنن الترمذی ۲؍۱۲۲ والعلل المتناھیہ ۲؍۶۶ و ضعیف ابن ماجہ ۱۰۳، ۱۰۴ولتخایرمن البدع ابن باز ص ۲۸) انور شاہ کشمیری کہتے ہیں کہ اس روایت میں حجاج بن ارطاط ہیں جو ضعیف راوی ہیں۔ علماء امت کے اقوال: شیخ الاسلام ابن بازؒ اپنے شہرہ آفاق رسالہ ’’ التخد یرمن البدع‘‘ میں فرماتے ہیں پندرہویں شعبان کی فضیلت کے متعلق تمام احادیث ضعیف اورموضوع ہیں ۔ امام ابو بکر اپنی کتاب البدح الحوادث میں رقمطراز ہیں کہ اس رات کو دوسری رات پر کوئی فضیلت نہیں۔ ابن ملیکہ سے کہا گیا کہ زیادنمیری کہتاہے کہ پندرہویں شب کی رات کا ثواب شب قدر کے برابر ہے ابن ملیکہ نے کہاکہ اگر میںاس کو سنتا اور میرے ہاتھ میںلاٹھی ہوتی تو میںاس کو ضرور مارتا کیونکہ زیادنمیری قصہ گو تھا۔ (التخد یرمن البدع) غیر مسلموں کی نقالی: آتش بازی:اسلام نے کسی بھی تہوار میں آتش بازی کی اجازت نہیں دی ہے۔ شب برأت میں دیوالی کی نقالی کرتے ہیں، دوسرا فضول خرچی کرتے ہیں جس کے متعلق قرآن کہتا ہے’’فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں‘‘ کاش کہ آتش بازی میں خرچ کرنے کی جانے والی رقم کو مساجد اور مدارس، بیوائوں، یتیموں اور مفلوک الحال مسلمانوں پر خرچ کیا جاتا ۔ موم بتی جلانا مجوسیوں کی نقالی ہے، آتش پرستوں کی نقالی ہے۔ برمکیوں میں سے خالد بن برمک بن جاناس بن یشتاسف نے اس کا آغاز کیا جبکہ خالد کا باپ برمک بلخ کے مجوسیوں میں سے تھا۔ (البدع الحولیہ ص ۳۰۴) حلوہ وغیرہ پکا کر رکھنا کہ اس رات میں روحیں آتی ہیں اور کھاتی ہیں جس طرح ہندوئوں میں حلوہ پوری پکا کر مردوں کو کھلاتے ہیں، تصور کرتے ہیں کہ مردوں کو کھلارہے ہیں۔ قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ روحیں نہیں آتی ہیں ، روحوں کا دو ہی ٹھکاناہے علیین ،سجین۔ نیک روحیں علین میں چلی جاتی ہیں اور بدروحیں سجین میں چلی جاتی ہیں ۔ (سورہ المومن ۹۹ تا ۱۰۰، سورہ انعام ۲۸۰) حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس میں ہمارے لیے نصیحت یہ ہے کہ کافر اپنے اہل کے پاس جانے کی آرزو نہیں کرے گا عمل صالح کے لیے تمنا کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم جمیع مسلمانوں کو بدعات و خرافات سے بچتے ہوئے کتاب و سنت کی شاہراہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین

About the author

Taasir Newspaper