اسلام

اسلام میں غیبت ایک قبیح عمل

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uplo0aded on 19-April-2019

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: غیبت سے احتراز کرو کیونکہ غیبت زنا سے زیادہ بری چیز ہے۔ زنا کار کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے لیکن غیبت کرنے والوں کی توبہ قبول نہیں کی جاتی، جب تک وہ بندہ جس کی غیبت کی ہو وہ اسے دل سے معاف نہ کردے۔ حدیث شریف میں غیبت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے “غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے ایسی بات کہی جائے جو اسے ناگوار گزرے۔ اگر وہ بات سچی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان میں داخل ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی ہر ایک بات جس سے کوئی برائی ظاہر ہوتی ہو، خواہ اس کا تعلق اس کے لباس، جسم، رفتار و گفتار، گفت وشنید، طور طریقے یا اس کے قول و فعل سے متعلق ہو، مثلاً بولا جائے وہ آدمی ہاتھی جیسا ہے، کوا جیسا ہے، آنکھیں بلی کی طرح ہے، بھینگا ہے۔ یا کسی کے باپ کے تعلق سے یوں کہا جائے، حرامی کی اولاد یا جولاہے کی اولاد یا اخلاق کے تعلق سے کہا جائے کہ وہ بری عادت والا ہے۔ یا مغرور، بدزبان، کمزور دل ہے، یا افعال و کردار کے بارے میں ہو کہ وہ چور ہے،امانت میں خیانت کرنے والا ہے، بے نمازی ہے، نماز میں ارکان اسلام کو سکون سے ادا نہیں کرتا، یا حرام مال کھاتا ہے، زبان چلاتاہے، بہت کھاتا ہے، بہت سوتا ہے، لباس کے بارے میں کہا جائے کہ کھلی آستین والا کپڑا پہنتا ہے دراز دامن یا میلا کچیلا لباس پہنتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ یہ تمام باتیں غیبت کے اندر شامل ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنے کلام مجید میں شدت کے ساتھ غیبت سے منع فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کریگا کہ وہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے، پھر آگے فرمایا کہ تمہیں یہ ناگوار گزرے گا کہ تم اپنے مردار بھائی کا گوشت کھاؤ۔(ابن کثیر) روایت میں ہے کہ اللہ کے پیارے نبی ﷺ جب جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مالدار شخص کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو ساتھ کر دیتے تاکہ وہ غریب ان کی خدمت کرے، وہ اسے کھلائیں پلائیں اور ہر آدمی کا کام سہولت کے انجام تک پہنچے، اسی طرح ایک موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ دو آدمیوں کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ سفر کے دوران اچانک آنکھ لگ گئی اور گہری نیند سو گئے اور کھانا تیار نہ کر سکے تو ان دونوں نے کھانا طلب کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجا، حضور نبی کریم ﷺ کے خادم مطبخ صحابئ رسول حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ان کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی بچا ہوا نہیں تھا، انہوں نے ان دونوں شخص سے کہا کہ میرے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ حضرت سلمان نے یہی آکر کہہ دیا تو ان دونوں رفیقوں نے کہا: اسامہ نے بخل سےکام لیا۔ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں، انہوں نے کہا ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا تم نے غیبت کی ہے اور جو مسلمان بھائی کی غیبت کرتا ہے۔ گویا اس مردار بھائی کا گوشت کھایا۔ محترم قارئین حضرات غیبت کتنی ہلاکت خیز بلا اور قبیح عمل ہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نماز روزہ جیسے بلند پایہ، عظمت والی عبادت کی نورانیت کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ ایک مرتبہ دو روزہ دار نماز عصر سے فارغ ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وضو کرو اور نماز از سر نو پڑھو اور روزہ پورا کرو اور اگلے دن اس کی قضاء کرنا،سائل نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ یہ حکم کس لئے؟ آپ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم نے فلاں کی غیبت کی ہے۔ (بیہقی) غیبت صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ ہاتھ، آنکھ اور اشاروں سے بھی کی جا سکتی ہے اور یہ بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔ حضرت حسان بن مخارق کہتے ہیں: ایک عورت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے پاس آئی۔ جب وہ جانے کے لئے کھڑی ہوئی تو حضرت عائشہ نے پیارے آقا ﷺ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ یہ عورت پست قد ہے تو آپ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ تم نے غیبت کی۔ (ابن کثیر) دوستو! بعض لوگ غیبت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ غیبت نہیں ہے۔ مثلاً جب ان کے سامنے کسی کا ذکر ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہا الحمد للہ! اللہ رب العزت نے ہمیں اس بات سے محفوظ رکھا تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ وہ آدمی ایسا کرتا ہے۔ یا جیسے کہتے ہیں کہ فلاں تو بہت نیک تھا لیکن وہ بھی اہل دنیا میں پھنس کر رہ گیا ہے اور وہ بھی ہماری طرح لوگوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ اسی قسم کی باتیں کہتے ہیں اور کبھی اپنی برائی ایسے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتنی انوکھی بات ہے۔ تاکہ غیبت کرنے والا ہوشیار ہو اور دوسرے بھی جان جائیں اور جو غافل تھے وہ بھی اس کو سن لیں۔ کہتے ہیں بھائی! ہمیں اس بارے میں سن کر بہت رنج و الم پہچا ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، غرض یہ ہے کہ دوسرے لوگ آگاہ ہو جائیں۔ مختصراً عرض ہے کہ جیسے کسی کا عیب دوسرے سے بیان کرنا درست نہیں ہے ایسے ہی اپنے دل سے کہنا بھی درست نہیں۔ دل سے غیبت کا مطلب ہے کسی کے بارے میں برا خیال کرو، بغیر اس کے کہ اپنی آنکھوں سے کوئی برا کام دیکھا یا کانوں سے سنا ہو اس فعل بد پر آپ کو یقین کامل ہو۔ غیبت کرنا تو گناہ کبیرہ ہے ہی غیبت سننا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ لہذا جب کوئی غیبت کر رہا ہو تو اس کو روک دیں۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا پاک ارشاد ہے۔ جو اپنے مسلمان بھائیوں کی پیٹھ پیچھے اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ اسے جہنم سے آزاد کردے۔ (مسند امام احمد) رب العالمین پوری ملت اسلامیہ کی غیبت جیسی مہلک مرض سے حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔۔ مولانا صادق قاسمی مہتمم جامعہ صدیقیہ دعوت القرآن صدیق نگر دھرم باڑی بائسی ضلع پورنیہ بہار۔ 9661481615

About the author

Taasir Newspaper