ہندستان ہندوستان

بھگوا ملزمین کے وکلاء کو بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے جمعیۃ علماء کے وکیل پر اعتراض معاملے کی سماعت کل تک ملتوی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uplo0aded on 23-April-2019

ممبئی (پریس ریلیز)مالیگائوں ۲۰۰۶ بم دھماکہ معاملے میں آج بھگوا ملزمین کے وکلاء نے متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل کے بحث کرنے پر سخت اعتراض کیا جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت کل تک ملتوی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اندرجیت موہنتی اور جسٹس بدر کے روبرو ملزمین دھان سنگھ، لوکیش شرما ، منوہر سنگھ اور راجندر چودھری کی جانب سے داخل عرضداشتوں کی سماعت کے دوران متاثرین کی جانب سے بحث کرنے کھڑے ہوئے ایڈوکیٹ شریف شیخ پر بھگوا ملزمین کے وکلاء نے شدید اعتراض کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ نچلی عدالت میں شریف شیخ نے مسلم نوجوانوں کے دفاع میں اپنی بحث کی تھی اورآج عدالت میں بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کررہے ہیں جو قابل اعتراض ہے ۔ہندو ملزمین کی نمائندگی کرنے والے وکلاء خصوصی جے پی مشراء، پرشانت مگو، سینئرایڈوکیٹ جھا وغیرہ نے عدالت کو بتایا کہ ایڈوکیٹ شریف شیخ کا موجودہ ملزمین(ہندو ملزمین) کے خلاف بحث کرنا مفادات کا تصادم (Conflict of Interest) ہے لہذا عدالت کو انہیں بحث کرنے سے روکنا چاہئے ۔بھگوا ملزمین کے وکلاء کے اعتراض کے بعد عدالت نے شریف شیخ کو کہا کہ وہ انہیں بحث کرنے سے منع نہیں کررہے ہیں لیکن انہیں اس جانب سوچنا چاہئے کیونکہ ریکارڈکے مطابق وہ نچلی عدالت میں مسلم نوجوانوں کے دفاع میں پیش ہوچکے ہیں ۔ اسی درمیان کا وقت مکمل ہوگیا جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کردی۔آج دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کے وکلاء ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ شروتی ویدیہ، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر موجود تھے جبکہ این آئی اے کی جانب سے ایڈوکیٹ پرکاش شیٹی نے بحث کی اور عدالت سے ملزمین کو ضمانت پر نہ رہا کیئے جانے کی گذارش کی۔

About the author

Taasir Newspaper