دنیا بھر سے

مجسٹریٹوں نے کیا 4 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uplo0aded on 15-April-2019

الجزائرسٹی:الجزائر میں مجسٹریٹوں نے نظام مخالف احتجاجی تحریک کی حمایت میں 4 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔الجزائر میں مظاہرین نے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے استعفے کے باوجود احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اب حکومتی عہدوں پر فائز ان کے قریبی مصاحبین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ صدارتی انتخابات موجودہ عدالتی فریم ورک اور اداروں کے تحت ہوتے ہیں تو یہ آزادانہ اور شفاف نہیں ہوسکتے۔ الجزائر کے عبوری صدر عبدالقادر بن صالح نے گذشتہ منگل کو ایک نشری تقریر میں ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’میں عوام کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ آئین نے مجھ پر یہ بھاری ذمے داری عاید کی ہے‘‘۔لیکن مظاہرین نے ان کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ ان سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ہفتے کے روز ایک سو سے زیادہ مجسٹریٹوں نے دارالحکومت الجزائر میں وزارتِ عدل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔اس مظاہرے کی اپیل مجسٹریٹس کلب نے کی تھی۔ یہ کلب حکومت کے حامی نیشنل مجسٹریٹس سینڈیکیٹ کے مقابلے میں قائم کیا گیا ہے۔مظاہرے میں شریک ملک کے جنوب مشرقی شہر الوادی سے تعلق رکھنے والے جج سعد الدین مرزوق نے کہا کہ ’’مجسٹریٹس کلب نے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ان کی نگرانی نہیں کرے گی۔انھوں نے کہا کہ اس کلب کے ملک کی ہرعدالت میں ارکان موجود ہیں لیکن انھوں نے ان کی مخصوص تعداد نہیں بتائی ہے۔واضح رہے کہ الجزائر میں انتخابات کے انعقاد میں مجسٹریٹوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔وہ انتخابی فہرستوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ان انتخابی فہرستوں پر جولائی میں صدارتی انتخابات سے قبل اسی ماہ نظرثانی کی جارہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper