دنیا بھر سے

امریکا اور چین کے مابین مذاکرات مگر کشیدگی برقرار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-May-2019

واشنگٹن/بیجنگ،واشنگٹن میں امریکی و چینی نمائندگان کے مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔ امریکی صدر نے چین کی بقیہ تقریباً تمام مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی بقیہ تقریباً تمام اشیاء￿ پر ٹیکس بڑھانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تجارت سے متعلق امریکی نمائندے رابرٹ لائٹ ہائزر نے اپنے بیان میں کہا، ’’صدر نے ہمیں بقیہ تمام چینی مصنوعات پر تین سو بلین ڈالر مالیت کے اضافی محصولات عائد کرنے کا عمل شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔‘‘یہ پیش رفت امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر جمعے کی شام سامنے آئی۔ ان مذاکرات کو ٹرمپ نے تعمیری اور اچھے ماحول میں ہونے والے مذاکرات قرار دیا تھا البتہ بعد ازاں انہوں نے اضافی محصولات کے احکامات جاری کر دیے۔ ان مذاکرات میں گو کسی ڈیل کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی لیکن بات چیت کا عمل ختم بھی نہیں ہوا، جس سے ایسی امیدیں ابھی برقرار ہیں کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں تجارتی کشیدگی کو شاید مستقبل قریب میں ختم کر سکیں۔ٹرمپ نے بعد ازاں کہا، ’’میرے اور چینی صدر شی جن پنگ کے تعلقات مضبوط ہیں اور مستقبل کے حوالے سے بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔‘‘ امریکی صدر کے بقول چین پر عائد کردہ اضافی محصولات ختم ہوں گی یا نہیں، اس کا دارومدار مستقبل میں ہونے والے مذاکرات پر ہو گا۔تجارت کے حوالے سے چین کے اعلٰی ترین مذاکرات کار لیو ہی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی اقدام کا چین کو بھی جواب دینا پڑے گا۔ ہی کے بقول فریقین کے مابین عنقریب بیجنگ میں اگلی ملاقات ہو گی لیکن فی الحال اس ملاقات کی تاریخ طے نہیں۔شنگھائی میں قائم ’فرسٹ سی فرنٹ فنڈ مینجمنٹ‘ کے ماہر اقتصادیات یانگ ڈیلونگ کے مطابق ٹرمپ کے رویے میں اچانک سختی کی وجہ ممکنہ طور پر آئندہ برس ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن ہو سکتے ہے۔ ان کے بقول امریکا کو توقع ہے کہ چین کئی معاملات میں رعایات دے سکتا ہے۔واضح رہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین گزشتہ برس سے جاری تجارتی جنگ میں اب تک دونوں فریقین ایک دوسرے کی درآمدات پر قریب 360 بلین ڈالر مالیت کے ٹیکس عائد کر چکے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper