دنیا بھر سے

امریکہ: ہواوے اور اس کی کئی ذیلی ٹیلی کام کمپنیاں بلیک لسٹ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-May-2019

واشنگٹن،امریکہ نے معروف چینی ٹیلی کام کمپنی ‘ہواوے’ اور اس کی 70 سے زائد ذیلی اور منسلک کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔امریکہ محکمۂ تجارت نے کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ان کمپنیوں پر امریکی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی امریکی کمپنی سے کوئی آلات یا ٹیکنالوجی خریدنے پر پابندی ہوگی۔امریکہ کے وزیرِ تجارت ولبر روس نے کہا ہے کہ پابندی کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کو غیر ملکی اداروں کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ہے تاکہ وہ اسے امریکہ کی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی سے متعلق مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ایک بیان میں ولبر روس نے کہا ہے کہ ان کے محکمے کے اس اقدام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔اس سے قبل بدھ کو صدر ٹرمپ نیایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکی کمپنیوں پر ایسی غیر ملکی کمپنیوں کے تیار کردہ ٹیلی کام آلات استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جنہیں امریکی حکومت قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہو۔گو کہ حکم نامے میں کسی ملک یا کمپنی کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکی حکام ماضی میں ‘ہواوے’کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں اور امریکی اتحادیوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ جدید فائیو جی نیٹ ورک کے لیے ‘ہواوے’ کے آلات تیار نہ کریں۔’ہواوے’ موبائل انٹرنیٹ کے جدید فائیو جی نیٹ ورک کے آلات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور کئی مغربی ممالک اور ان کی کمپنیاں اس کے بنے آلات استعمال کرتے ہیں۔’ہواوے’ کی انتظامیہ ماضی میں بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ امریکہ کے لیے خطرہ نہیں اور اس پر امریکی کمپنیوں کی جاسوسی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔نئی پابندی کے نفاذ پر ‘ہواوے’ نے کہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ ‘ہواوے’ کو امریکہ میں کام کرنے سے روکنے کے نتیجے میں امریکہ کو کم صلاحیت کے مہنگے آلات پر بھروسا کرنا ہوگا اور اس کی وجہ سے امریکہ فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب میں باقی دنیا سے پیچھے رہ جائے گا۔خدشہ ہے کہ ‘ہواوے’ اور اس کی ذیلی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں سے چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کرجائے گی جس میں گزشتہ چند روز کے دوران کچھ کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

About the author

Taasir Newspaper