ہندستان ہندوستان

اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری پر بم دھماکہ متاثرین کو اعتراض

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-May-2019

ممبئی(پریس ریلیز)مالیگائوں ۲۰۰۸ بم دھماکہ متاثرین کو انصاف دلانے کی جدوجہد کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے آج بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں ایک اہم عرضداشت داخل کرکے اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوالات اٹھائے ہیں اور عدالت سے گذارش کی کہ وہ اے ٹی ایس کو جاری مقدمہ کی سماعت میں حصہ لینے اور این آئی اے کی مدد کرنے کا حکم دے ۔واضح رہے کہ مالیگائوں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملے کی تفتیش سب سے پہلے مہاراشٹر انسداددہشت گر ددستہ نے کی تھی اور اس نے اپنی تفتیش میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر ، کرنل پروہیت سمیت دیگر بھگوا ملزمین قصور پایا تھا لیکن بعد میں قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے اضافی تفتیش کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو کلین چٹ دے دی جبکہ دیگر ملزمین کو جزوی راحت پہنچائی حالانکہ خصوصی این آئی اے عدالت نے این آئی اے کی تفتیش کو مکمل طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا اور اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کی بنیاد پر سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے کیخلاف مقدمہ قائم کرکے معاملے کی سماعت شروع کردی ۔بطور مداخلت کار جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکلاء مقدمہ کی جاری سماعت میں روزانہ حصہ لیتے ہیں اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس معاملے میںا ے ٹی ایس کی جانب سے کوئی بھی افسر اور وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہورہا ہے جبکہ فی الحال جن گواہوں کی گواہیاں جاری ہیں وہ سب کے سب اے ٹی ایس کی جانب سے نامزد کردہ گواہ ہیں اور ان کے بیانات کا اندراج اے ٹی ایس نے ہی کیا تھا ۔آج خصوصی این آئی اے جج ونود پڈالکر کی عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے آٹھ صفحات پر مشتمل ایک عرضداشت داخل کی اور عدالت سے گذارش کی کہ وہ کمشنر آف پولس (اے ٹی ایس) کو حکم دے کہ وہ دوران سماعت اے ٹی ایس افسران اور خصوصی سرکاری وکیل (اے ٹی ایس) کو عدالت میں رہنے کے لیئے متنبہ کرے تاکہ عدالت کے کام کاج میںآسانی ہو اور گواہی دینے والے سرکاری گواہوں کی رہنمائی کی جاسکے ۔ عرضداشت میں درج کیا گیا ہیکہ اس سے قبل این آئی اے کے وکیل اویناس رسال نے بھی اے ٹی ایس کے عدالت سے غیر حاضر رہنے کا مدعہ اٹھایا تھا لیکن عدالت نے اس وقت اس پرکوئی کارروائی نہیں کی تھی لیکن اب جبکہ سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج شروع ہوچکا ہے ، اے ٹی ایس کے وکیل اور ان کے افسران کی عدالت میں موجودگی سے استغاثہ کو فائدہ پہنچے گا اور حصول انصاف میں آسانی ہوگی۔جمعیۃ علماء کے وکلاء کی جانب سے داخل عرضداشت کو عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو قومی تفتیشی ایجنسی کو حکم دیا وہ اس تعلق سے ۲۰؍ مئی تک عدالت میں اپنا جواب داخل کرے ۔بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ مالیگائوں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں اے ٹی ایس کی خاموشی مجرمانہ ہے کیونکہ ایک مخصوص طبقہ کے ملزمین کو راحت پہنچانے کے مقصد سے اے ٹی ایس نے مبینہ طور پر عدالت سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے جبکہ یہ وہی اے ٹی ایس ہے جس نے مالیگائوں ۲۰۰۶ء بم دھماکہ معاملے میں نچلی عدالت سے باعزت بری ہونے والے ۹؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ہماری کوشش ہیکہ ہم مالیگائوں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے کی جاری سماعت میں حصہ لینے اور این آئی اے کی مدد کرنے کے لیئے اے ٹی ایس کو پابند کریں اور آج جو عرضداشت خصوصی این آئی اے عدالت میںداخل کی گئی ہے وہ اس کی ایک کڑی ۔خیال رہے کہ گذشتہ دسمبر کو خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر(۴۷) میجر رمیش اپادھیائے(۶۷) اجئے ایکناتھ راہیکر (۴۸)، سمیر شرد کلرنی(۴۷)، کرنل پروہیت(۴۶)، سوامی امرتیا نند(۴۹) اور سدھاکر چترودیدی(۴۶) کے خلاف چارج فرہم کرتے ہوئے باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے ۔

About the author

Taasir Newspaper