ہندستان ہندوستان

اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت نے دخل دینے سے انکار کیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 18-May-2019

ممبئی(پریس ریلیز)مالیگائوں ۲۰۰۸ بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میںاس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے حالانکہ عدالت نے اپنے حکمنامہ کے ذریعہ اے ٹی ایس کو بم دھماکہ متاثرین کی عرضداشت پر کارروائی کرنیکا حکم دیا ۔واضح رہے کہ مالیگائوں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملے کی تفتیش سب سے پہلے مہاراشٹر انسدا ددہشت گر ددستہ نے کی تھی اور اس نے اپنی تفتیش میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر ، کرنل پروہیت سمیت دیگر بھگوا ملزمین قصور پایا تھا لیکن بعد میں قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے اضافی تفتیش کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو کلین چٹ دے دی جبکہ دیگر ملزمین کو جزوی راحت پہنچائی حالانکہ خصوصی این آئی اے عدالت نے این آئی اے کی تفتیش کو مکمل طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا اور اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کی بنیاد پر سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے کیخلاف مقدمہ قائم کرکے معاملے کی سماعت شروع کردی ۔ آج خصوصی این آئی اے جج ونوڈ پڈالکر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے بم دھماکوں متاثرین کی نمائندگی کرنے والئے وکلاء شاہد ندیم اور عادل شیخ کو بتایا کہ ان کی جانب سے داخل عرضداشت پر عدالت کارروائی کرنے سے قاصر ہے کیوں کہ اے ٹی ایس کو عدالت میں حاضری کے لیئے پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کیونکہ اس معاملے کی تفتیش این آئی اے نے بھی کی ہے اور فی الحال اس کے وکیل استغاثہ عدالت میں موجود رہے کر ٹرائل چلا رہے ہیں ۔اسی درمیان عدالت نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہو ئے معاملہ کا سامنا کررہے۔ ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر ، میجر رمیش اپادھیائے، اجئے ایکناتھ راہیکر ،، سمیر شرد کلرنی،، کرنل پرو ہیت،، سوامی امرتیا نند، اور سدھاکر چترودیدی کو حکم دیا کہ وہ ہفتہ ایک بار عدالت میں حاضر ہوں اور اگران کی غیر حاضری کی عرضداشت داخل کی گئی اور اس میں غلط بیانی پائی گئی تو عدالت سخت کارروائی کریگی ۔عدالت نے آج سخت رویہ دکھاتے ہوئے بھگواملزمین کے وکلاء کو کہا کہ ایسا لگتاہیکہ ملزمین نے یہ مان لیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper