سیاست سیاست

بہار کی راما، کویتا اور وینا پارلیمنٹ میں ریاستی خواتین کی بنیں گی آواز

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 24-May-2019

پٹنہ: پارلیمنٹ کے اندر بہار کے تین خواتین پر ریاست کی آدھی آبادی کی پوری بات رکھنے کا ذمہ ہوگا۔ اس بار بھی پارلیمانی انتخاب میں 3خواتین کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ ایوان میں خواتین ممبران کی تعداد تو نہیں بدلی لیکن چہرے ضرور بدل گئے ۔2خواتین پہلی بار پارلیمنٹ پہنچی ہیں۔ 2019 کے نتیجے خواتین امیدوار کے لئے حوصلہ بخش رہے۔ این ڈی اے نے 3خواتین امیدوار کو میدان میں اتارا تھا اور سبھی کامیاب ہوگئی۔ راما دیوی نے دوسری بار جیت درج کی ہے۔ عظیم اتحاد کی سبھی 6امیدوار انتخاب ہار گئی۔ ان میں لوک سبھا اسپیکر میرا کمار، لالو پرساد کی بیٹی رکن رجیہ سبھا میسا بھارتی بھی شامل ہیں۔پارلیمنٹ میں کل خواتین امیدوار کی تعداد 56 تھیں 2014 میں 47 امیدوار نے انتخاب لڑا تھا۔ غیر منظور شدہ رجسٹر سیاسی پارٹیوں نے26نے انتخاب لڑاتھا ۔19 نے آزاد کی امیدوار کی حیثیت سے قسمت آزمایا۔ کانگریس نے 3 ، بی ایس پی اور جنتادل یو نے 2-2 اور بی جے پی اور لوجپا نے 1-1 خاتون امیدوار بنایا۔ سب سے دلچسپ امیدوار پاٹلی پترا میں رہا۔ آرجے ڈی کی میسابھارتی نے رام کرپال کو زبردست ٹکر دی۔ مقابلہ ایک ایک ووٹ کا تھا۔ 10ہزار ووٹ سے آگے چل رہی میسا بھارتی کی سبقت کا مارجنگ 28ویں راؤنڈ میں جب 1ہزار ووٹ پر آگیا ۔ یہ انتخاب پچھلے بار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئیں۔ 2014 میں میسا 342940 ووٹ حاصل کر رام کرپال یادو سے 40322 ووٹوں سے ہاری تھیں ۔ اس بار 457425 ووٹ لاکر 41371ووٹوں سے ہار گئیں۔ سہسرام میں کانگریس کی امیدوار اور سابق اسپیکر میرا کمار بی جے پی کی چھیدی پاسوان سے 165745ووٹوں سے انتخاب ہار گئیں۔ میرا کمار 2014 میں ملے 302760 کے مقابلے 329055 ووٹ لاکر بھی جیت حاصل نہیں کرسکیں۔

About the author

Taasir Newspaper