ہندستان ہندوستان

تین سالہ کمسن بچی کی عصمت دری کے واقعہ پر شدید غم و غصہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-May-2019

سری نگر،(یو این آئی) شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ملک پورہ ترہگام سمبل میں 8 مئی کو پیش آئے دل دہلانے والے تین سالہ کمسن بچی کی عصمت دری کے واقعہ نے وادی کشمیر میں شدید غم وغصے کی لہر پیدا کردی ہے۔ریاستی پولیس نے ملزم کو حراست میں لیکر کیس کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو ایس ڈی پی او سمبل، ایس ایچ او سمبل اور دیگر کچھ سینئر پولیس افسران پر مشتمل ہے۔ایس ایس پی بانڈی پورہ راہل ملک نے لوگوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کی اصل عمر کا پتہ لگانے کے لئے سائنسی طریقہ کار استعمال کیا جائے گا اور اس کے لئے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ ضلع مجسٹریٹ بانڈی پورہ شہباز احمد مرزا نے بھی لوگوں سے صبر کا دامن تھامنے اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ‘کمسن بچی کی آبرو ریزی کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہے۔ ہم یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن کا دامن تھامے رکھے اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔لوگوں کا الزام ہے کہ ملزم طاہر احمد میر جو ملک پورہ ترہگام کا ہی رہنے والا ہے، کو ‘نابالغ’ قرار دیکر بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ملزم کی عمر 20 برس ہے۔ملزم کو فوری اور قرار واقعی سزا دینے کے مطالبے کو لیکر وادی کے متعدد علاقوں بشمول سمبل، خمینی چوک، ماگام، بڈگام، سری نگر اور بارہمولہ میں اتوار کے روز شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔چند ایک مقامات بالخصوص خمینی چوک اور ماگام میں مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فورسز نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور مبینہ طور پر پیلٹ بندوقوں کا استعمال کیا۔وادی کشمیر میں مین اسٹریم اور علاحدگی پسند لیڈر شپ نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔جموں و کشمیر اتحاد المسلمین نے فاسٹ ٹریک بنیاد پر انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے 13 مئی پیر کے روز ‘کشمیر بند’ کی کال دی اور ملزم کو کیفردار تک پہنچانے کے لئے پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔بزرگ علاحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے اس وحشیانہ اور دلخراش واقعے پر اپنے گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کا آئے روز وقوع پذیر ہونا ایک مہذب سماج کے لیے تازیانہ عبرت ہے۔انہوں نے معاشرے میں پھیلی ہوئی شیطانی خباثت، بے راہ روی، بے حیائی اور منشیات کا بے دریغ استعمال کے حوالے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بقول ان کے خاموش تماشائیوں کا کردار ادا کرنے کی شدید ترین الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان اداروں میں بدترین قسم کی رشوت خوری نے انہیں اپنے فرائض انجام دینے میں مجرمانہ غفلت برتنے کا خوگر بنادیا ہے۔حریت چیئرمین نے عوام آپسی اتحاد واتفاق کو بنائے رکھنے کی ایک دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا تدارک کرنے کے لیے جدید سائنسی اور مغربی علوم کے ساتھ ساتھ قرآن اور حدیث کی روشن تعلیمات کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ اپنی محلہ کمیٹیوں کو منظم اور مربوط کرتے ہوئے اپنی نوجوان نسل کی راہنمائی کرنے میں کوئی بھی غفلت نہ بھرتیں۔کشمیری علماء کی تنظیم ‘متحدہ مجلس علماء’ نے تین سالہ معصوم و کمسن بچی کی آبرو ریزی کرنے والے نوجوان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشرہ میں تیزی سے بے راہ روی کے شکار ہوتے جارہے نوجوانوں کو عبرت حاصل ہوگی۔یہاں جاری ایک بیان میں اس شرمناک واقعہ پر زبردست فکر و تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا کہ کس قدر افسوس کی بات ہے ہمارا کشمیری سماج آئے روز نت نئےاخلاقی زوال کی بھیانک تصویر پیش کررہا ہے جو ہر لحاظ سے افسوسناک اور ہمارے لئےلمحہ فکریہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے پے در پے واقعات پر با شعور کشمیری مسلمانوں کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قرآن و حدیث اور اولیائے کرام اور بزرگان دین کی اخلاقی تعلیمات سے دوری کے سبب نوجوان طبقہ گمراہی کا شکار ہو رہا ہے جو ہر لحاظ سے قابل توجہ ہے۔بیان میں اس واقعہ کے خلاف عوامی احتجاج کی زبردست حما یت کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے طاقت اور تشدد کے استعمال، ٹیئر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔دریں اثنا ترگام سمبل کی کمسن تین سالہ معصومہ کی بے رحمانہ آبروریزی کے بعد متاثرہ کنبہ سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کی خاطر جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کا ایک وفد تنظیم کے صدر و سینئر حریت رہنما مولانا مسرور عباس انصاری کی قیادت میں ملک پورہ ترگام سمبل گیا جہاں انہوں نے جنسی زیادتی کی شکار تین سالہ معصومہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ دلی ہمدردی و یکجہتی کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ وفد میں جنرل سیکرٹری سید مظفر رضوی اور ضلع صدر بانڈی پورہ کے علاوہ دیگر مرکزی اراکین بھی شامل تھے۔واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مولانا انصاری نے درندہ صفت ملزم کو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دیا اور کہا کہ سماج میں اس طرح کے حیوان صفت انسانوں کا وجود ناسور کی طرح ہے جن کو قابو میں کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔مولانا نے کہا کہ ملک پورہ سانحہ کسی ایک مسلک، ملت یا مذہب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دلسوز سانحہ انسانیت کا مسئلہ ہے اور تمام مذہبی رہنماوں، سیول سوسائٹی اور دیگر قومی ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ اس گھناؤنی اور انسانیت سوز حرکت کے خلاف آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ مسلک و ملت کا لحاظ کئے بغیر درندہ صفت ملزم کو کیفردار تک پہنچانے کے لئے کشمیری فرد فرد ہر ممکن رول ادا کریں اور اس سلسلے میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ برتی جائے۔مولانا انصاری نے کہا کہ یہاں کے ریپ کلچر نے سماج کو کھوکھلا کردیا ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں ریپسٹ سرعام گھوم رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی سنگین کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تین سالہ معصومہ جنسی زیادتی کا شکار بن کر ایک طرف موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہے دوسری جانب تحقیقات کے نام پر درندہ صفت ملزم کو بچانے کے لئے درپردہ سازشیں رچائی جارہی ہیں۔انہوں نے اسلامک ایجوکیشن نامی اسکول کی جانب سے ملزم کو نابالغ قرار دئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی علوم کے نام پر اس طرح کی بیہمانہ کاروائی اسلام بدنام کرنے کا حربہ ہے اور امت مسلمہ بالخصوص اسلامیان جموں و کشمیر کے سربراہان و ذمہ داران خاموشی توڑ کر اس گھناؤنی حرکت کو انجام دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کریں۔مولانا نے باہمی اتحاد و اتفاق کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسیاں اس انسانیت سوز سانحہ کو ایک مسلک کے ساتھ جوڑنے کی تمام تر کوششیں کرکے یہاں مسلکی فسادات کو ہوا دینے کی کوششیں کررہے ہیں اور اس طرح کے پروپیگنڈوں اور ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تین سالہ معصومہ کو انصاف دلانا سماج کے ایک ایک فرد کی ذمہ داری ہے لہذا بلا لحاظ مسلک، ملت و مذہب انصاف کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی ریلیوں میں باہمی اتحاد و اتفاق اور امن و امان کو ملحوظ نظر رکھیں۔مولانا نے ماگام اور بمنہ میں پر امن احتجاجیوں پر طاقت کے استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حرکت سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انتظامیہ جرائم پیشہ افراد کے کندھوں سے کندھے ملائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فاسٹ ٹریک بنیاد پر انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے 13 مئی سوموار کو کشمیر بند کی کال دی اور ملزم کو کیفردار تک پہنچانے کیلئے پرامن احتجاج کی اپیل کی۔دریں اثناء انجمن شرعی شیعیان کے ہزاروں حامیوں نے تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں قصبہ بڈگام میں اس سانحہ کے خلاف احتجاجی جلوس برآمد کیا۔ مظاہرین نے متاثرہ معصوم بچی کو انصاف فراہم کرنے اور مجرم کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ ایسے انسانیت سوز سانحات رونما نہ ہو سکے۔اس موقع پر آغا حسن نے مزکورہ سانحہ کو انسانیت سوز اور درندگی کی حد انتہا قرار دیتے ہوئے انصاف و انسانیت پسند حلقوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر اس ظلم عظیم اور وحشیانہ حرکت کے خلاف آواز بلند کریں اور متاثرہ بچی کو انصاف دلانے میں اپنی انسانی ذمہ داریاں ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ ماہ مبارک کے دوران اس طرح کا روح فرسا سانحہ رونما ہونا ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

About the author

Taasir Newspaper