ہندستان ہندوستان

جامعہ ملیہ کی وائس چانسلر نے چانسلر سے کی بات چیت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-May-2019

نئی دہلی(پریس ریلیز) جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چانسلر نجمہ ہیپت اللہ نے وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر سے کل یہاں ملاقات کے دوران مشورہ دیا کہ وہ جامعہ کو اعلی خوبیوں کی حامل اور انتظامی معاملوں میں بہتر یونیورسٹی بنانے کی کوشش کریں ۔ پروفیسر نجمہ اختر کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بحیثیت وائس کے چانسلر سے یہ پہلی دو بدو میٹنگ تھی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صد سالہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ اس یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور چانسلر دونوں ہی خاتون ہیں ۔ اس میٹنگ میں دونوں نے یونیورسٹی کے بارے میں متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ پروفیسر نجمہ اختر نے ایک ماہ کے انتہائی قلیل مدت میں کء جانے والے کاموں کے بارے میں چانسلر کو تفصیلات فراہم کیں ۔ ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ نے پروفیسر نجمہ کی جانب سے یونیورسٹی کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میںیونیورسٹی کو ایک نئی شناخت ملے گی ساتھ ہ ی انھوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے ان کی جانب سے وہ تمام کوششیں کی جائیں جو ان سے ممکن ہو سکے گا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر ممتاز مقام دلانے کے لئے تگ و دو کریں گی ۔ ڈاکٹر ہیپت اللہ نے پروفیسر نجمہ اختر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے کچھ شعبہ جات و سینٹرز جس میں انور جمال ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے اسے مزید بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس عظیم مر کز سے اب تک جو طلباء فارغ ہو چکے ہیں یا فلم اور میڈیا کے میدان میں جن لوگوں نے اپنی الگ شناخت بنائی ہے ان سے ربط ضبط رکھا جانا چاہئے ۔ بتا دیں کہ ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ جو سیاست اور تعلیم دونوں میدانوں میں ہی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں وہ مولانا ابوالکلام آزاد کی پڑ پوتی ہیں ۔ مولانا کا شمار ہندوستان کے جلیل القدر علماء ، مجاہد آزادی اور سیاستدا ں کے طور پر ہوتا ہے جو ملک کے پہلے وزیر تعلیم بھی تھے ۔

About the author

Taasir Newspaper