دنیا بھر سے

جرمن حکومت کی طرف سے ’کِپا‘ پہننے پر اصرار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 30-May-2019

برلن،جرمن حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ یہودیوں کی مقدس ٹوپی ’کِپا‘ پہنیں۔ حکومت کی طرف سے یہ اصرار اسرائیل مخالف مظاہرے سے قبل اور یہودیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سامنا آیا ہے۔جرمنی میں بڑھتے سامیت مخالف جذبات کے تناظر میں حکومت کے سامیت دشمنی کے انسداد کے شعبے کے کمشنر فِیلکس کلائن نے اختتام ہفتہ پر کہا تھا کہ وہ یہودیوں کو یہ مشورہ نہیں دیں گے کہ وہ جرمنی میں ہر وقت کپا پہنیں۔ ان کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی صدر ریوین ریولِن نے اس مشورے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا غماز ہے کہ یہودی جرمنی میں محفوظ نہیں ہیں۔اسرائیلی صدر ریوین ریولِن نے اس مشورے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا غماز ہے کہ یہودی جرمنی میں محفوظ نہیں ہیں۔تاہم پیر کی شام چانسلر میرکل کے ترجمان کی اس معاملے میں مداخلت کے بعد کلائن نے کہا کہ ان کے بیان کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ یہودی جرمنی میں محفوظ نہیں ہیں۔ میرکل کے ترجمان سباستیان زائبرٹ نے بھی پریس کانفرنس میں کہا، ’’ریاست ملک بھر میں تمام شہریوں کے مذہبی آزادی کے حق کو یقینی بنائے گی۔۔۔ اور یہ کہ کوئی بھی ہمارے ملک میں کِپا پہن کر کہیں بھی آ جا سکے۔‘‘سامیت دشمنی کے انسداد کے شعبے کے کمشنر فِیلکس کلائن نے اختتام ہفتہ پر کہا تھا کہ وہ یہودیوں کو یہ مشورہ نہیں دیں گے کہ وہ جرمنی میں ہر وقت کپا پہنیں۔میرکل کے ترجمان کے بیان کے بعد جرمنی میں سامیت دشمنی کے انسداد کے شعبے کے کمشنر فِیلکس کلائن کی طرف سے بھی اپنے مشورے کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان کی طرف سے جاری ہونے والے تازہ بیان کے مطابق، ’’میں برلن اور پورے جرمنی کے شہریوں سے کہتا ہوں کہ وہ آئندہ ہفتے کے روز کِپا پہنیں اگر برلن میں منائے جانے والے یوم القدس کے موقع پر اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف نئے ناقابل برداشت حملے سامنے آتے ہیں تو۔‘‘یوم القدس، یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے خلاف سالانہ منایا جانے والے ایک ایونٹ ہے جو ہفتہ یکم جون کو منایا جا رہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper