ہندستان ہندوستان

حیدر آباد کی 400 سال قدیم مسجدشہید، مسلمانوں میں اضطراب

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-May-2019

حیدرآباد (ایجنسی):مئی مہینے کے آغاز میں حیدر آباد کی ایک تاریخی مسجد راتوں رات شہید کر دی گئی جس پر قومی میڈیا بالکل خاموش ہے۔ امبر پیٹ واقع کم و بیش 400 سال قدیم ’مسجد یک خانہ‘ کو منہدم کرنے کا کام گریٹر حیدر آباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) اور حیدر آباد ٹریفک پولس نے مل کر انجام دیا ۔2 مئی کو شہید ہوئی اس تاریخی مسجد کے بارے میں جب تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے ورکنگ صدر محمد اظہر الدین کو خبر ملی تو انھوں نے 13 مئی کو ایک پریس کانفرنس کی اور بھرپور طریقے سے یہ مطالبہ کیا کہ مسجد اپنی جگہ پر پھر سے تعمیر ہو اور حیدر آباد پولس کمشنر کے ساتھ ساتھ جی ایچ ایم سی کمشنر کو بھی ہٹایا جائے۔ اظہر الدین نے ساتھ ہی کہا کہ ’’مسجد یک خانہ ایک تاریخی مسجد تھی اور اسے منہدم کرنے کا عمل ناقابل قبول ہے۔ اس طرح کی کارروائی آگے نہیں ہونی چاہیے اور شہید مسجد کی جگہ پر نئی مسجد تعمیر کی جانی چاہیے۔‘‘ اظہرالدین نے اس انہدامی کارروائی کی مکمل جانچ کا بھی مطالبہ کیا۔سڑک چوڑی کیے جانے کے نام پر مسجد منہدم کیے جانے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے اظہر الدین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’سڑک کی چوڑائی بڑھانے کے لیے جی ایچ ایم سی کیا چارمینار کو بھی منہدم کر دے گا؟ میں روڈ کیچوڑائی بڑھانے کے خلاف نہیں ہوں اور نہ ہی ڈیولپمنٹ کے خلاف ہوں، لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ تاریخی مسجد کو بچانے کے لیے متبادل طریقوں پر غور کرے۔‘‘ انھوں نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندر شیکھر راؤ سے مسجد انہدام معاملہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے اور واقعہ کو انجام دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔دراصل رواں ماہ کے شروع میں سڑک چوڑی کرنے کے نام پر مسجد یکخانہ کو منہدم کیا گیا اور اس وقت سے وہاں پر کشیدگی کا ماحول قائم ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ مسجد کی عمارت میں مقیم لوگوں کے مالکانہ دعویٰ کو قبول کرتے ہوئے انھیں سرکار کی جانب سے معاوضہ بھی دے دیا گیا۔ لیکن جب راتوں رات اس مسجد کو منہدم کر دیا گیا تو ایک طبقہ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور مسجد کے قدیم و تاریخی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اظہر الدین نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منہدم کی گئی عمارت وقف بورڈ کی ملکیت تھی اور وہ حقیقت میں ایک تاریخی مسجد تھی۔ اظہر الدین نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ سرکار نے عمارت پر قبضہ کرنے والے لوگوں کو ڈھائی کروڑ کا معاوضہ دے کر اسے منہدم کر دیا۔مسجد شہید کیے جانے کے بعد ایک مقامی تنظیم نے حیدر آباد پولس سے احتجاج کرنے کی اجازت مانگی تھی جسے پولس کی جانب سے خارج کر دیا گیا۔ خبریں اس طرح کی بھی موصول ہو رہی ہیں کہ تنازعہ کافی بڑھنے کے بعد جی ایچ ایم سی نے عمارت کی تعمیر از سر نو کرنے کی کوشش کی لیکن بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور تعمیری کام آگے نہیں بڑھنے دیا۔ حالات اس قدر کشیدہ ہیں کہ حیدر آباد کے پولس کمشنر انجنی کمار نے امبرپیٹ میں کسی طرح کی بھیڑ لگانے پر روک لگا دی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper