ہندستان ہندوستان

روزہ کا تعلق خالق اور مخلوق سے براہِ راست ہوتا ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-May-2019

دیوبند(دانیال خان)روزہ کا تعلق خالق اور مخلوق سے براہِ راست ہوتا ہے کیونکہ روزہ رکھنے والا صرف رب کریم کو خوش رکھنے کے لئے سارے دن بھوک اور پیاس کی شدت کو جھیلتا ہے وہ اگر چاہے تو کسی ایسی جگہ جہاں اسے کوئی دوسرا شخص دیکھنے والا نہ ہو خاموشی سے کچھ کھا پی کر دوسرے انسانوں کو اپنی روزے کی کیفیت کو ظاہر کرسکتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیوں کہ اس کا یہ کامل یقین ہوتا ہے کہ عالم الغیب والشہادۃ اسے ہر حالت میں دیکھ رہا ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ روزے سے انسان کے یقین میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ جب وہ رب العالمین کی خوشنودی کے لئے اس عمل کو انجام دیتا ہے تو اس کا انعام بھی اسے اسی کے بقدر ملتا ہے۔ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’الصوم لی و انا اجزی بہ‘‘ کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں خود عطا کروں گا۔ سبحان اللہ، اللہ رحمن و رحیم کس چیز کا بدلہ خود ہی عطا کرے تو وہ کس شان کا ہوگا؟ کیونکہ وہ تو تمام بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔ شاہی انعام سے نوازے جانے کیلئے اس عبارت کو انجام دینا ہماری خوش بختی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمیعتہ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے بعد نماز ظہر چھتہ مسجد میں کیا ۔انہوں نے بتایا کہ بہت سے محدثین نے ’’وانا اجزی بہ‘‘ کو ’’وانا اُجزیٰ بہ‘‘ کہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے کے بدلے میں میں خود دے دیا جائوں گا یہ اور بھی بڑی نعمت ہے اس سے بڑھ کر تو کوئی نعمت ہو ہی نہیں سکتی۔مزید برآں اللہ تعالیٰ کا یہ انعام کہ اس نے اس مہینہ کو اتنا رحمت و برکت والا بنایا جس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب کی کسی بھی عبادت میں نہیں ملتی۔ ایک حدیث میں رمضان کے تین حصے کئے گئے ہیں پہلا حصہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا حصہ جہنم سے چھٹکار ے کا ہے۔رمضان شریف اور قرآن مجید کا باہمی تعلق ایسا ہے جس نے اس کی فضیلت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ قرآن مجید کا نزول اسی ماہِ مبارک میں ہوا، جس رات میں نازل ہوا اسے شب قدر کہا جاتا ہے اس رات میں کی جانے والی عبادت کو ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر بتایا گیا ہے۔ روزے دار کی مونہہ کی بوٗ اللہ تعالیٰ کو مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ دعائوں کی قبولیت اس ماہ میں بطورِ خاص ہوتی ہے۔ الغرض یہ مبارک مہینہ انتہائی قابلِ احترام و اکرام، با عظمت و برکت اور نیکیوں کا ذخیرہ کر نے کا سب سے غنیمت موقع ہے اس لئے ہمیں اس کا بہر طور خیال رکھنا چاہئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اور آپ کو سب کو اس کا احترام و اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ اور اس کے برکات و اثرات و ثمرات سے پوری طرح فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

About the author

Taasir Newspaper