دنیا بھر سے

روس اور ترکی دفاعی شعبے میں قریب تر، امریکا نالاں

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-May-2019

انقرہ/ماسکو/واشنگٹن،نیٹو کے رکن ممالک امریکا اور ترکی کے مابین روسی ایس چار سو میزائل کے سودے سے منسلک تنازعہ ابھی جاری ہے کہ ترک صدر نے اعلان کیا ہے کہ روس اور ترکی ایس پانچ سو طرز کا جدید میزائل دفاعی نظام مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ روس اور ترکی ایس پانچ سو (500- S) طرز کا جدید میزائل دفاعی نظام مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔ استنبول میں نوجوانوں کے ایک اجتماع سے ہفتہ 18 مئی کو اپنے خطاب میں ترک صدر نے کہا، ’’ایس چار سو طرز کے میزائل دفاعی نظام کے سودے سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ ایردوآن کے بقول اس سودے کی تکمیل کے بعد 500- Sکی تیاری پر کام شروع ہو گا۔یہ امر اہم ہے کہ ترکی کی جانب سے روسی ساخت کے S-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر امریکا کو شدید تحفظات ہیں۔ واشنگٹن حکام کا موقف ہے کہ روسی ساخت کے اس میزائل دفاعی نظام سے روس مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جاسوسی کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک ترکی اور امریکا کے مابین اس معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ شامی کرد ملیشیا کی امریکا کی جانب سے حمایت بھی ان دونوں ملکوں کے مابین ایک مسئلہ ہے۔امریکا کی جانب سے ایسے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ ایس چار سو میزائل دفاعی نظام امریکی ایف پینتیس (35 – F) لڑاکا طیاروں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ہفتے کو ترک صدر نے بتایا کہ امریکی تحفظات کے بعد ترک حکام نے اس بارے میں تکنیکی مطالعے کیے ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ دکھائی نہیں دیا۔واضح رہے کہ ترکی امریکا سے ایف پینتیس (35 – F) لڑاکا طیارے خرید رہا ہے تاہم روس کے ساتھ اس ڈیل کے تناظر میں امریکا نے ایف پینتیس طیاروں کی ڈیل معطل کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ ترک پائلٹس ان دنوں امریکا میں ہیں اور F-35 اڑانے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ترک صدر نے مزید کہا کہ روس سے ایس چار سو میزائلز کی فراہمی جولائی میں متوقع ہے جو اس سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper