دنیا بھر سے

سوشل میڈیا، 40 فیصد سے زائد یوزرز کا جھوٹی خبریں پھیلانے کا اعتراف

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-May-2019

لندن  سوشل میڈیا پر سیاسی خبریں شیئر کرنے والے ہر دس میں سے چار نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جھوٹی اور غیر حقیقی باتیں پھیلاتے رہے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق تقریباً 18.7 فیصد نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر دوسروں کو اپ سیٹ کرتے رہے ہیں۔لاگ بورو یونیورسٹی کے آن لائن سوک کلچر سینٹر ( او سی سی سی) کی سٹڈی کے مصنفین نے کہا ہے کہ نتائج نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ برطانوی سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی ایک قابل قدر اقلیت میں سنجیدگی کا عنصر پرانی چیز ہو گئی ہے۔سٹڈی سے پتہ چلا کہ کنزرویٹیو سپورٹرز اور دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے سوشل میڈیا یوزرز سے یہ ممکنات زیادہ ہیں کہ وہ خبر کو جھوٹی جانتے ہوئے بھی اسے پھیلاتے ہیں۔ اس کے برعکس لیبر کے سپورٹرز اور بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے یوزرز عام طور پرغلط خبر کودرست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین اور کم عمر افراد کے مقابلے میں مرد جھوٹی خبریں زیادہ پھیلاتے ہیں۔ جن افراد سے سٹڈی کے لئے رابطہ کیا گیا ان میں سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی مجموعی طور پر نصف سے زیادہ تعداد (57.7فیصد) نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ مہینوں میں جو سیاسی خبریں دیکھیں انہیں یقین تھا کہ وہ جھوٹی ہیں۔ 42.8نے جھوٹی خبریں پھیلانے کا اعتراف کیا جبکہ ان میں 17.3فیصد افراد وہ تھے جنہیں خبر شیئر کرتے وقت پتہ تھا کہ یہ بوگس ہے۔تقریباً ایک تہائی (33.8فیصد) نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے دوسرے افراد کی مدد سے خبر کو درست کیا جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے سیاسی نیوز آئٹم سوشل میڈیا بشمول فیس بک ، ٹیوٹر ،انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر کیوں شیئر کیا تو 65.5 فیصد نے کہا کہ وہ اپنے احساسات کا اظہار چاہتے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں دوسروں کو خبر سے آگاہ کرنے کے خواہشمند تھے۔ نصف سے کچھ زائد (51.1فیصد) کا کہنا تھا کہ وہ دوسروں کی رائے جاننے کے خواہشمند تھے۔ 43.9 فیصد دوسروں پر اثراندوز ہونے، 43.7بحث کرنے 33.5فیصد تفریح کیلئے جبکہ 29.6فیصد نے ایک گروپ سے تعلق کے احساس اور 29.4 فیصد نے بتایا کہ سیاسی خبریں اس لئے شیئر کیں تاکہ وہ یہ ظاہر کر سکیں کہ انہیں سیاسی معاملات پر معلومات حاصل ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper