ریاست

قومی تعمیر میں مصروف کارکنان کو کچلاجائے تو ہندوستان کا مستقبل کیا ہوگا ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 16-May-2019

کشن گنج (آفتاب عالم صدیقی) قومی تعمیر میں مصروف کارکنان کو ہی کچلاجائے تو کیا ہوگا ہندوستان کا مستقبل ؟ مذکورہ باتیں فکریہ لہجے میں ہمارے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ٹیچرساتھیوں کے ساتھ موجود آئی ایچ ربانی نے مواصلاتی گفتگو میں کہا ۔ انہوں نے کہا کہ بہار صوبہ کے تقریبا 3.60لاکھ نیوجیت ٹیچروں کی امیدیں تب چکناچور ہوگئیں جب عزت ماب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو نامنظور کردیا ۔ آل بہاراردو۔بنگلہ ٹیچرس اسوسی ایشن کے ضلع سیکریٹری آئی ایچ ربانی نے کہاکہ مساوی کام کے لئے مساوی تنخواہ کی لڑائی صرف تنخواہ میں اضافہ کو لیکر نہیں تھا۔ یہ لڑائی وقت پر تنخواہ ملے،ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ملے وغیرہ کے لئے بھی تھی۔یہ لڑائی ان ہزاروں یوتھ کے لئے تھاجو ٹیچر کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔لیکن ٹیچرمخالف حکومت نے عدالت کے سامنے بارہاغلط باتیں پیش کرعزت ماب ہائی کورٹ سے فیصلے کونامنظور کروانے میں کامیاب ہوگئی اور قومی تعمیر کرنے والے کارکنان کو کچل کر کیاباورکرنا چاہتی ہے کہ قومی تعمیر اسی طرح ممکن ہے۔حکومت بہارنیوجیت لفظ کو سماج میںایساپیش کیا کہ سماج بھی اسے الگ نظریہ سے دیکھنے لگی ہے۔ ربانی نے کہا وشوگروکہے جانے والے ملک میں آج گروؤں کوریگولر،نیوجیت اور گیسٹ کی شکل میںتقسیم کر ٹیچروں کے عزت کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔ حکومت میڈیا کا سہارا لیکر کبھی مالیاتی بوجھ تو کبھی کوالیٹی پر سوال کھڑاکر سماج اور ٹیچروں کے بیچ کھائی پیداکردی ہے۔ہمارا سماج حکومت کے ان پالیسوںپر یقین کر حکومت کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جس سماج کو سرکار کی انتظامی امور پر سوال کرنی چاہئے و سماج تعلیم کی ناکامی پر خاموشی اختیار کر حکومت پر پر کوئی نقش نہیں لگانے پر ہی صورت سامنے آکر قومی تعمیر پر مصروف کارکنان کو اس دورسے گذرنا پڑتا ہے۔کاش ! ہماراموجودہ سماج اس نہج پر سنجیدہ ہوکر سوچیں تو حکومت کو چھوڑئے بڑی بڑی ہستیاں تباہی سے بچنا چاہتی ہیں۔ اسی کی شروعاتی دورکا نام تحریک ہے اوریہ تحریک مزیدفروغ پاجائے تو یقین جنگ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی اشو پر فیصلہ دیا ہے۔ کہ یہ ٹیچرسرکارکے ٹیچرہی نہیں ہیں یہ نیوجیت یعنی کنٹریکٹ ٹیچرہیں۔اکثرتحریکیںفروغ پاتے پاتے جنگ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، یعنی حکومت اور عوام کے بیچ کی جنگ تونہیں ؟

About the author

Taasir Newspaper