ہندستان ہندوستان

مایوسی سے گریز کرتے ہوئے ہمیں اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا چاہئے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 25-May-2019

حیدرآباد(پریس ریلیز)تاریخ شاہد ہے کہ حالات چاہے وہ ذاتی زندگی سے متعلق ہوں چاہے اجتماعی اور قومی زندگی سے متعلق ہوں ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ قرآنِ مجید خود کہتا ہے تلک الایام نداولھا بین الناس یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پلٹتے رہتے ہیں۔ جیت ہار، فتح و شکست، عروج و زوال ، کامیابی و ناکامی تاریخ کا ایک حصہ رہے ہیں۔ اقلیتیں اور سیکولر جماعتیں حالیہ انتخابی نتائج سے یقینا حیران ہیں، مگر جن لوگوں کے دل سب سے بڑی ربانی طاقت سے مربوط ہیں۔ اس طاقت کے ہوتے ہوئے مایوسی، بزدلی، کم ہمتی اور خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوسکتے۔ اسباب کی دنیا میں حالات میں تغیر تو ممکن ہے ۔ بہار اور خزاں کا نظام قدرت کا بنایا ہوا ہے ، مگر ایک مومن و مسلمان کیلئے یہی مناسب ہیکہ بہار ہوکہ خزاں لا الہ الا اللہ۔ ان خیالات کا اظہار منبر و محراب فاؤنڈیشن کے بانی و محرک مولانا غیاث احمد رشادی نے کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مایوسی سے گریز کریں۔ جس ملک میں مسلمان پچیس کروڑ کی تعداد میں ہوں، اگر اس ملک کے باشعور اٹھارہ کروڑ مرد و عورت اپنی ایمانی طاقت کی جانب توجہ دیں، اگر اس قدر بڑی تعداد اس ملک میں اسلامی شعائر کی عملاً حفا ظت کرے اور اپنی مسجدوں اور شریعت کے احکام سے مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کا مستقبل شاندار ہے۔ حالیہ انتخابی نتائج سے چراغ پا ہوکر ہمیں کسی بھی ایسے ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہئے جو غیر شائستہ اور غیر سنجیدہ ہو۔ ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع ہونا چاہئے اور ان نتائج کے پس منظر میں اپنی کمزور یوں کا ضرور جائزہ لینا چاہئے۔ قرآنِ مجیدکی تعلیمات کی روشنی میں ہم اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمانانِ ہند کی چند کمزور یوں نے ہمیں اس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ اگر مسلمان مسلک، مکتب فکر، شخصی نظریات، رنگ، علاقہ، برادری اور خیالات کی بنیاد پر ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اسی طرح انتشار و خلفشار کا شکار رہیں گے تو اس سے بھی زیادہ سنگین نتائج دیکھنے پڑیں گے۔ اب وقت آچکا ہے کہ مسلمان ہوش سنبھالیں۔ پوری فکرمندی کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوں۔ متحد و متفق ہوں۔ ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسرے سے محبت ، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات پیدا کریں۔ جزوی اور نظریاتی اختلافات کو ختم کریں۔ اپنے مسلک پر قائم ضرور رہیں مگر دوسروں کے مسلک سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ اگر ہمارا ایمان مضبوط ہے تو غلبہ کبھی ہم سے رشتہ نہیں توڑے گا۔ مسلمانوں کی اب یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ برادرانِ وطن میں موجود ان غلط فہمیوں کے ازالہ کی عملاً کوشش کریں او راپنے حسنِ اخلاق کے ذریعہ فرقہ پرستوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔

About the author

Taasir Newspaper