Uncategorized سیاست سیاست

مدھیہ پردیش میں کانگریسی حکومت اپنی میعاد پوری کرے گی : اوجھا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 28-May-2019

بھوپال،(یو این آئی) مدھیہ پردیش میں حکمراں پارٹی کانگریس کی میڈیا ڈسیل کی صدر محترمہ شوبھا اوجھا نے لوک سبھا انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہوئے حالات کے درمیان آج کہا کہ ریاست کی کمل ناتھ سرکار اپنی پانچ سال کی مدت مکمل کرے گی اور کانگریس سمیت حکومت کو حمایت دینے والے سبھی ممبر اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔محترمہ اوجھا نے ٹیلی فون پر يو این آئی سے کہا کہ وزیر اعلی کمل ناتھ کی موجودگی میں کل یہاں پارٹی اراکین کی میٹنگ ہوئی۔ اس میں کانگریس کے سبھی ممبران اسمبلی کے علاوہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے دو، سماجوادی پارٹی کا ایک اور چاروں آزاد ممبر اسمبلی نے بھی کانگریس حکومت کو اپنی حمایت جاری رکھنے کی بات دہرائی۔ انہوں نے دہرایا کہ کانگریس کی موجودہ حکومت کو مکمل اکثریت حاصل ہے اور حکومت اپنی میعاد پوری کرے گی۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹی گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس بارے میں سبھی ممبران اسمبلی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ریاست کی موجودہ حکومت کو تقریباً پانچ ماہ ہی ہوئے ہیں۔ اس میں سے بھی 10 مارچ کو لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا تھا، جو ایک دو دن پہلے ہی ہٹایا گیا ہے۔ محترمہ اوجھا نے کہا کہ کم وقت میں ہی کمل ناتھ حکومت نے اپنے کئی وعدے پورے کئے ہیں۔ اب وعدوں کو پورا کرنے کے لئے حکومت مزید تیز رفتاری سے مصروف عمل ہو گئی ہے۔ ریاستی حکومت کی ترجیحات میں کسانوں سے وابستہ مسائل پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار، نوجوانوں اور غریبوں سے متعلق موضوعات پر کام کرنا بھی شامل ہے۔ قانونی نظام کو بھی مزید چست درست کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی نے ریاست کے چیف سکریٹری، پولیس ڈائریکٹر جنرل اور دیگر سبھی افسران کو آگاہ کرادیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں محترمہ اوجھا نے کہا کہ لوک سبھا انتخابی نتائج کے بعد مسٹر کمل ناتھ کے ریاستی کانگریس صدر کے عہدے سے استعفی کی پیشکش سے متعلق جو خبریں آئیں، ان میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد وزیر اعلی بننے پر مسٹر کمل ناتھ نے مرکزی قیادت کے سامنے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔محترمہ اوجھا نے کہا کہ مسٹر کمل ناتھ کانگریس کے مینی فیسٹوں کے مطابق اپنی حکومت کی ترجیحات طے کرتے ہوئے اب تیزی سے کام کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ریاستی کابینہ کی توسیع کے سلسلے میں چل رہی خبروں کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلی کا خصوصی حق ہے اور اس بارے میں مناسب وقت پر وہ خود بتائیں گے۔دسمبر 2018 میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد مسٹر کمل ناتھ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی تھی اور اس نے پندرہ سال سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ 230 رکنی اسمبلی میں کانگریس کو 114 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ بی جے پی کے 109 رکن اسمبلی ہیں۔ اس کے علاوہ بی ایس پی کے دو، ایس پی کا ایک اور چار آزاد ممبر اسمبلی شامل ہیں۔ کانگریس کو ان ساتوں ممبران اسمبلی نے حمایت دی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper