کھیل

میز بان انگلینڈ اورجنوبی افریقہ کے درمیان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 30-May-2019

لندن،(یواین آئی) اپنے پہلے خطاب کے مقصد کے ساتھ کھیل رہیں میزبان انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں اس آئی سی سی ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے باوجود آج تک چیمپئن نہیں بن سکیں، لیکن جمعرات سے شروع ہونے جا رہے ورلڈ کپ -2019 میں دونوں ٹیمیں ‘چوکرس کے داغ کو اتار کر نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے اتریں گی۔انگلینڈ اینڈ ویلز کی میزبانی میں ہو رہے آئی سی سی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں میزبان انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان مقابلہ کھیلا جائے گا جہاں دونوں ہی ٹیموں کا ہدف جیت کے ساتھ فارم کو برقرار رکھنا ہوگا۔ انگلینڈ کو اپنے گھریلو میدان پر عالمی خطاب کا مضبوط دعویدار تصور کیا جا رہا ہے جبکہ تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ اترنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیم مضبوط ٹیموں میں سے ہے۔جنوبی افریقہ کی ٹیم نے عالمی کپ سے پہلے ہوئے پریکٹس میچوں میں سری لنکا کو 87 رنز سے شکست دی تھی جبکہ ویسٹ انڈیز سے دوسرے میچ میں بارش کی وجہ سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انگلینڈ کو اگرچہ ساوتھمپٹن میں پہلے میچ میں دفاعی چمپئن آسٹریلیا نے قریبی مقابلے میں 12 رن سے شکست دی تھی لیکن دوسرے میچ میں اس نے افغانستان کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر اصلاح کیا تھا۔ لندن کے دی اوول میدان پر ہونے والا ورلڈ کپ کا افتتاح مقابلہ لیکن دونوں ٹیموں کے لیے برابری کا ہوگا جہاں دونوں ہی جیت کی دعویدار کہی جا سکتی ہیں۔اگرچہ اپنے کیریئر کا تیسرا اور آخری عالمی کپ کھیل رہے تیزگیندباز ڈیل اسٹین کے چوٹ کی وجہ سے پہلے مقابلے سے باہر ہو نے سے جنوبی افریقہ کی ٹیم کو جھٹکا لگا ہے۔ اسٹین کی موجودہ فارم اچھی ہے اور عالمی کپ سے پہلے انڈین پریمیئر لیگ میں ان کی کارکردگی تسلی بخش رہی تھی۔اسٹین کی فٹنس پر شبہ ہے جن کے ابھی ورلڈ کپ کے آئندہ میچوں میں کھیلنے پر پوزیشن واضح نہیں ہے۔ اگرچہ افریقی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے جوحالات کوسنبھال سکتے ہیں۔ گیند بازی لائن اپ میں ٹیم کے پاس كےگیسو ربادا، لونگی اینگدي، کرس مورس، اسپنر عمران طاہر، آل راؤنڈر جے پی ڈومنی اور میڈیم تیزگیندباز آندلے فہیلوکوایو اہم ہیں۔عالمی کپ سے پہلے آئی پی ایل میں ربادا اور طاہر سب سے اہم گیندبازوں میں شامل رہے تھے اور انگلینڈ کی پچوں پر بھی ان کی اہمیت زیادہ ہوگی جہاں مقابلے بڑے اسکور والے ہونے کی امید ہے۔ ایسے میں کفایتی گیندبازی کے ساتھ انگلینڈ کے بلے بازوں کو بڑے اسکور سے روکنے کے لیے گیند بازوں کو زیادہ متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انگلینڈ کی عالمی کپ سے پہلے پاکستان کے خلاف گھریلو پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز بڑے اسکور والی رہی تھی جسے میزبان ٹیم نےچار۔صفر سے کلین سویپ کیا تھا جبکہ ایک میچ بارش سے نہیں ہو سکا تھا۔ اپنے گھریلو میدان پر مضبوط تصور کی جانے والی انگلینڈ کی ٹیم کو اپنی چیلنجنگ پچوں کا ماہر سمجھا جا رہا ہے، ایسے میں حریف ٹیم کے گیند بازوں پر زیادہ ذمہ داری رہے گی۔کپتان مورگن، جیسن رائے، جیمز ونس، جانی بيرسٹو، بین اسٹوکس، جوس بٹلر آل راؤنڈر معین علی سبھی انگلینڈ کے سرکردہ بلے بازوں میں ہیں۔ ان بلے بازوں کی پریکٹس میچ بھی کارکردگی بہترین رہی تھی۔ معین نچلی صف پر ٹیم کے سب سے زیادہ تجربہ کار بلے باز ہیں۔ سال 2015 کے گزشتہ عالمی کپ میں بھی انہوں نے 38.40 کے اوسط سے 192 رن بنائے تھے جبکہ اسکاٹ لینڈ کے خلاف 107 رنز کی سنچری اننگز کھیلی تھی۔کپتان مورگن کی بھی سال 2019 میں ون ڈے فارم تسلی بخش رہی ہے اور انہوں نے 10 ون ڈے میچوں میں 420 رن بنائے ہیں۔مورگن کے کیریئر کا یہ چوتھا عالمی کپ ہے۔ وہ 2007 میں آئر لینڈ کی جانب سے ورلڈ کپ میں اترے تھے۔ اب تک عالمی کپ میں انہوں نے 18 میچ کھیلے ہیں جس میں 301 رن بنائے ہیں۔دوسری طرف جنوبی افریقہ ٹیم کے کپتان فاف ڈو پلیسس اپنا تیسرا ورلڈ کپ کھیلنے اتر رہے ہیں۔اپنے آخری 2015 عالمی کپ میں انہوں نے آئر لینڈ کے خلاف 109 رن کی بہترین اننگ کھیلی تھی جبکہ اب تک تین عالمی کپ کے 14 میچوں میں انہوں نے 539 رن بنائے ہیں، اسی کارکردگی کی اس بار بھی توقع ان سے ہے۔ پلیسس نے سری لنکا کے خلاف پریکٹس میچ میں بھی 88 رنز کی حیرت انگیز اننگز کھیلی تھی۔وہیں جارح کھلاڑی ہاشم آملہ کا یہ تیسرا، جے پی ڈومنی کا تیسرا، كونٹن ڈی کاک کا دوسرا اور ڈیوڈ ملر کا یہ دوسرا ورلڈ کپ ہے جن کے تجربہ سے ٹیم کو بڑے الٹ پھیر کی امید ہے۔یہ سبھی افریقی ٹیم کے بلے بازی آرڈر کی اہم کڑی ہیں۔ آملہ کو تین ورلڈ کپ میں 15 میچوں کا اچھا تجربہ ہے اور ان آئی سی سی میچوں میں انہوں نے 639 رن بنائے ہیں۔ گزشتہ عالمی کپ میں انہوں نے بھی آئر لینڈ کے خلاف 159 رن کی اپنی بہترین اننگز کھیلی تھی۔دونوں ہی ٹیموں کے پاس کمال کا بلے بازی اور گیند بازی آرڈر ہے جس کی بدولت انہیں اس بار خطاب کی مضبوط دعویداروں میں شامل کیا جا رہا ہے۔اگرچہ یہ دلچسپ ہے کہ میزبان انگلینڈ اور بہترین کھلاڑیوں سے آراستہ افریقی ٹیم اب تک عالمی خطابتک نہیں پہنچ سکی ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper