ریاست

نابالغہ کا شادی کو جھانسہ دے کر 5مہینے تک عصمت دری کا معاملہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 16-May-2019

کٹیہار،(عاشق رحمانی)، کوڑھا تھانہ واقع مدھورا پنچایت کے بڑا رکسی میں ایک نابالغ لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر 5مہینے سے لگاتار جنسی استحصال کرنے کا معاملہ روشنی میں آیاہے۔ وہیں متاثرہ نے بتایاکہ میری چائے کی دوکان ہے اسی چائے کی دوکان میں اور میرے والد کام کررہے تھے اتنے میںبکری لے کر میںکھیت گئی ۔ وہاں تمجید پہلے سے کھڑا تھا۔ میرے منہ میں پٹی باندھ کر مکئی کے کھیت میں زبردستی پٹخ کر میرے ساتھ عصمت دری کیا۔ جب میں اس کی مخالفت کرنے لگی تو مجھے تمجید کہنے لگا کہ تم کسی کو بتانا نہیں ہم تم سے شادی کریں گے۔ اسی طرح سے تمجید 5مہینے تک شادی کی بات کہہ کر میرے ساتھ بدکاری کرتارہا۔ جب میں حاملہ ہوگئی تو اس حادثہ کی جانکاری میںنے اپنے خاندان والوں کو دیا۔ اس حادثہ کو لے کر 4دفعہ پنچایتی بلائی گئی۔ مگر محمد تمجیدکے خاندان والوں نے شادی سے ہمیشہ انکار کرتےرہے۔ اب میں 3مہینے کی حاملہ ہوں مجھے پنچایت سے انصاف نہیں ملا تو میں کوڑھا تھانہ میں درخواست دے کر انصاف کی فریاد لگارہی ہوں۔ غور طلب ہے کہ متاثرہ کے والد محمد ضیائل نے بھی بتایاکہ میری بیٹی زرینہ بکری لے کر مکئی کھیت کی جانب گئی ہوئی تھی وہاں موجود تمجید نے ان کے منہ پر کپڑا باندھ کر عصمت دری کیا۔ جب میری بیٹی اس کی مخالفت کرنے لگی تو تمجید نے شادی کرنے کی بات کہا۔ اسی طرح سے تمجید ہماری بیٹی کے ساتھ 5مہینہ تک شادی کی بات کہہ کر جنسی استحصال کرتارہا۔ جب مجھے اس حادثہ کی جانکاری ملی تو میں 4دفعہ پنچایتی بلایا لیکن تمجید کے خاندان والے ہر پنچایت میں شادی سے انکار کرتے رہے اب پنچایت سے تھک ہار کر کوڑھا تھانہ میں درخواست دےکر انصاف کی فریاد لگارہاہوںکہ میری بیٹی کو صحیح انصاف مل جائے ۔ وہیں اس معاملے کو لے کر ملزم تمجیداپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میری زمین پر اس کی دوکان تھی اورمیری بھی دوکان ہے اس لئے مجھے جھوٹ پھنسایاجارہاہے۔ اور جوحاملہ ہے وہ کسی اور کا ہے۔جب اس معاملے کو لے کر پنچایتی بٹھائی گئی تو میرے جانب سے کہا گیاکہ شادی کرلو تو میرے حمایتی کے ذریعہ کہاگیاکہ ایک اقرار نامہ کیجئے لڑکی کے حمل میں جو بچہ ہے اس کی جانچ کرائی جائے گی۔ اگر میرا بچہ ہوگا تو ہم پورے زندگی لڑکی کو رکھنے کے لئے تیاررہیں گے۔ اگر بچہ میرا نہیں ہوگا تو لڑکی اپنے والد کے یہاں رہے گی۔ اس بات پر اتفاق ہے تو ہم ابھی شادی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس بات پر کسی طرح کی رضامندی نہیں بن رہی ہے۔ وہیں تمجیدنے یہ بھی کہا کہ اس لڑکی سے دور دور تک میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ فی الحال تمجید اپنے اوپر لگے سبھی الزام کو بے بنیاد بتارہاہے۔ وہیں تمجیدکے والد محمدحکیم بھی اپنے بیٹے پر لگے الزام کو بے بنیاد بتارہے ہیں۔ اب تو یہ جانچ میں ہی پتہ چلے گا کہ سچائی کیاہے۔

About the author

Taasir Newspaper