ریاست

ڈائریاکی مریضہ کی موت پر لوگوں کا اسپتال میں ہنگامہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 16-May-2019

مدھوبنی،(کریم اللہ)، مدھوبنی صدر اسپتال میں پھیلی بدنظمی اس وقت سامنے آگئی جب مقامی بھوارہ باشندہ لال رام کی بیوی ، اپنی 4سالہ بیٹی جیوتی کماری، جوڈائریا سے متاثر تھی اسے صدر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں علاج کے لئے لایا گیا جہاں اس بچی کی موت ہوگئی۔ موت کی خبر سنتے ہی خاندان والے اور اس کے ساتھ آئے دیگر لوگ مشتعل ہوگئے۔ مشتعل ہوکر ہنگامہ کرنے لگے اور اسپتال ملازمین کے ساتھ مارپیٹ کیا۔ بچے خاندان والوں کے ساتھ کہنا ہے کہ جب ہماری بچی سیریس تھی ڈائریریاسے توعلاج کے لئے اسپتال میں لایاگیاتو کوئی بھی ڈاکٹر یہاں موجود نہیں تھا۔ صرف ایک اسپتال ملازم موجود تھا۔ جب ہم نے بچی کے سیریس ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر کو بلاکر علاج کرنے کی آرزو منت کی تو میرے بچی کا علاج نہیں کیاگیا۔ الٹے اسپتال ملازم ہمیں ڈانٹ پھٹکار کر وہاں سے بھاک جانے کو کہا۔ اور ڈاکٹر کو نہیں بلایا۔ اس لئے میری بچی کا علاج کے بغیر موت ہوگئی۔ وہیں جب میڈیا کو معاملے کا پتہ چلا تو پتہ چلتے ہی موقع پر پہنچ کر معاملے کا جائزہ لیا تو اسپتال منیجر کی پول کھل گئی۔ جب نامہ نگار وہاں پہنچے تو اسپتال میں موجود اسپتال ملازمین کے ساتھ تفتیش کی تو انہوں نے بتایاکہ رات کے شفٹ میں ایمرجنسی وارڈ میں ایک ڈاکٹر سمیت دو ملازمین ڈیوٹی پر رہتے ہیں۔ یکایک 7-8ایمرجنسی مریض علاج کے لئے آگئے جس میں وہ بچی بھی تھی جس کی موت ہوگئی۔ بچی جس وقت آئی ہوئی تھی ڈائریا سے متاثر تھی اور اس کی حالت نازک تھی۔ ہم نے ہر ممکن علاج کی کوشش کی لیکن بچی کو بچایانہیں جاسکا۔ اور بچی کے خاندان والوں کے ذریعہ اسپتال ملازمین کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ فی الحال موقع پر نگر تھانہ کی ٹیم پہنچ کر معاملے کو رفع دفع کرکے جانچ میںلگ گئی ہے۔ ادھر گارجین کے گھر کہرام مچاہواہے۔ وہیں ایمرجنسی وارڈ میں رات کے شفٹ میں صرف ایک ڈاکٹر اور دو ملازمین کے بھروسے پورے اسپتال کو چھوڑ دیاجاتاہے۔ اگر یکایک رات میں 10مریض ایمرجنسی وارڈ میں علاج کرانے آجائیں تو بھگوان ہی اسے بچا سکتاہے۔ یہ اسپتال منیجر کی کمزوری نہیں تو کیاہے۔ وہیں اس موقع پر موجود ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے گارجین کو 20ہزار روپے دیئے جس کے بعد معاملہ رفع دفع ہوا۔ وہیں آخری رسوم کے لئے اسے 3ہزارروپے دینے کا یقین دلایا۔

About the author

Taasir Newspaper