دنیا بھر سے

بنگلہ دیش میں قیدیوں کے لیے ناشتے کا 200 سال پرانا ’مینیو‘ تبدیل

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 18-June-2019

ڈھاکا،بنگلہ دیش کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسے جانے پر ڈھاکا حکومت کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہتا ہے مگر حال ہی میں بنگالی حکومت نے جیل اصلاحات کے ضمن میں قیدیوں کے لیے برطانوی استعمار کے دور کا 200 سال پرانا ناشتہ ختم کر کے قیدیوں کو نسبتا بہتر کھانا فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔بنگلہ دیش میں جیل امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر بزلور رشید نے کہا ہے کہ ملک کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 81 ہزار ہے۔ کل اتوار سے ان کے ناشتے کا مینیو تبدیل کردیا گیا۔ نئے ناشتے میں متنوع اشیاء کا اضافہ کیا گیا ہے۔ 19 ویں صدی میں برطانوی سامراج کی جیلوں میں قیدیوں کو روٹی کے ساتھ گْڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے سوا قیدیوں کو اور کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ بنگالی حکومت بھی دو سو سال تک اسی پر عمل پیرا رہی ہے اور اب اس نے قیدیوں کے ناشتے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔نئے مینیو میں روٹی کے ساتھ سبزی، پھل، سویٹس اور دال میں پکے چاول دیئے جائیں گے۔ ماضی قیدیوں کو 116 گرام روٹی اور 14 اعشاریہ 5 گرام گڑ دیا جاتا رہا ہے۔بنگلہ دیش کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ڈالنے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ڈھاکا پر شدید تنقید کرتی رہتی ہیں۔ بنگالی جیلوں میں 35 ہزار سے زاید افراد کو رکھنے کی گنجائش نہیں مگر وہاں پر بعض اوقات 60 سے 80 ہزار تک قیدیوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔بزلور رشید کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ناشتے کے ’مینیو‘ میں تبدیلی جیل خانوں اور قیدیوں کے حوالے سے اصلاحات کے عمل کا حصہ ہے۔

About the author

Taasir Newspaper