کھیل

بھارت ۔ آسٹریلیا مقابلہ آج

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-June-2019

لندن، (پی ایس آئی)اپنے پہلے میچ میں بہترین جیت درج کرنے کے بعد بھارتی ٹیم اتوار کو آئی سی سی ورلڈ کپ -2019 کے اپنے اگلے میچ میں اتوار کو موجودہ فاتح آسٹریلیا کا سامنا کرے گی. اس میچ کے نتائج کو جاننے کی جتنی دلچسپی شائقین میں ہوگی، اتنی ہی مہندر سنگھ دھونی کے دستانے پر بنے فوج کے نشان کو لے کر چل رہے تنازعہ کو لے کر بھی دلچسپی بنی رہے گی. دھونی نے جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ایسے دستانے پہنے تھے جن پر ‘بلی دان بریگیڈ’ کا نشان بنا ہوا تھا. اس پر آئی سی سی نے اپنے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراض کیا تھا اور بی سی سی آئی سے کہا تھا کہ وہ دھونی سے فوج کا نشان ہٹانے کو کہے. بی سی سی آئی نے حالانکہ آئی سی سی سے دھونی کو نشان برقرار رکھنے کی اجازت مانگی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا. بہرحال، اس تنازع کو پرے رکھ کر بھارت آپ جیت کو برقرار رکھنا چاہے گی اور کوشش کرے گی جو غلطیاں اس نے اپنے پہلے میچ میں کی تھی، وہ انہیں دہرائیں نہیں. بھارت نے اگرچہ جنوبی افریقہ کو تقریباً یک طرفہ انداز میں شکست دی تھی، لیکن پھر بھی کچھ جگہ ایسی ہیں جہاں اس کو کام کرنے کی ضرورت ہے. مثال کے طور پر طویل شراکت. وہیں، آسٹریلیا نے اپنے گزشتہ میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی. اس جیت کے لئے اگرچہ اسے جدوجہد کرنا پڑا تھا لیکن اس جدوجہد نے بتا دیا تھا کہ آسٹریلیا کیوں چند ماہ میں خطاب کی دعویدار ٹیم کے طور پر نظر آنے لگی ہے. 79 رنز پر پانچ وکٹ کھونے کے بعد ناتھن کلٹر نائل اور سٹیو سمتھ کے درمیان ہوئی سنچری شراکت نے ٹیم کو باعزت اسکور دیا اور پھر مشیل اسٹارک نے ویسٹ انڈیز کے افسانوی کرس گیل اور اہم بلے بازوں کے وکٹ لے اپنی ٹیم کو جیت دلائی. پہلے میچ میں بھارتی گیند بازوں نے بااثر مظاہرہ کیا تھا. آغاز میں جسپریت بمراہ نے وکٹ نکالے تھے تو وہیں بھونیشور نے رن روکے تھے. ان کے بعد لیگ اسپنر یجویندر چہل نے اپنی اسپن کا کمال دکھایا تھا. آسٹریلیا کے لئے بھارتی بولنگ فکر کا سبب رہے گی. وہ اگرچہ مارچ میں بھارت کو اس کے گھر میں شکست دی تھی اور پھر اس نے ان تمام گیند بازوں کو اچھے سے کھیلا تھا. یہ اس کے لئے ذہنی برتری کا کام کر سکتی ہے. اس میچ میں کلدیپ پر بھی نظریں رہیں گی. پہلے میچ میں انہوں نے بولنگ اچھی کی تھی لیکن وکٹ صرف ایک ملا تھا. بھارت نے جنوری میں جب آسٹریلیا میں سیریز کھیلی تھی تب بھونیشور نے آسٹریلیائی کپتان ایرن فنچ کو خاصا پریشان کیا تھا. اس میچ میں ان دونوں کی دشمنی ایک بار پھر نظروں میں ہوگی. اگر بھونیشور آغاز میں اپنی سوئنگ کے طور پر فنچ کا وکٹ لینے میں کامیاب رہے تو پانچ بار کی فاتح پر دباؤ بننا طے ہے. لیکن بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کی آسٹریلیا کے پاس ڈیوڈ وارنر جیسا بلے باز بھی ہے جو بہترین فارم میں ہے. وارنر ہندوستانی گیند بازوں کو ترجیح دیتے ہیں. انہیں روکنا بھی بھارت کے لئے چیلنج ہوگا. وہیں سمتھ، عثمان خواجہ، یلیکس کیری، گلین میکسویل اور ناتھن سے بھارت کو بچ کر رہنا ہوگا۔ بولنگ کی بات آتی ہے تو بھارت کو ان فارم سٹارک سے کافی پریشانی ہو سکتی ہے. اسٹارک نے گزشتہ میچ میں بتایا تھا کہ وہ بڑے شکار کرنے کے شوقین ہے. انہوں نے آغاز میں کرس گیل اور آخر میں آندرے رسل، کارلوس بریتھویٹ اور جیسن ہولڈر کے وکٹ لے ویسٹ انڈیز سے فتح چھین لی تھی. سٹارک کے لئے شکھر دھون، روہت شرما اور وراٹ کوہلی اہم وکٹ رہیں گے. آسٹریلیا جانتی ہے کہ اگر اس نے بھارت کے اعلی -3 کو جلدی سمیٹ دیا تو ہندوستان بڑا اسکور نہیں کر سکتا اور نہ ہی بڑے مقصد کو حاصل کر سکتا. صرف سٹارک ہی نہیں پیٹ کمنس پر بھی یہ ذمہ داری ہو گی. لیگ اسپنر ایڈم جامپا نے بھارت میں بہترین مظاہرہ کیا تھا اور اسی وجہ سے وہ ورلڈ کپ ٹیم میں جگہ بنا پانے میں کامیاب رہے. ایک بار پھر انہیں اپنے مظاہرہ کو دہرانا ہے. جامپا کے اوپر وسط میں رنز روکنے اور وکٹ نکالنے کی ذمہ داری ہے. مڈل آرڈر میں آسٹریلیا کو نمبر -4 پر لوکیش راہل، کیدار جادھو، دھونی اور ہاردک پانڈیا کا سامنا کرنا ہوگا. دونوں ٹیمیں اپنی آخری -11 میں تبدیلی کریں اس کا امکان کم ہی ہے۔ٹیمیں (ممکنہ): آسٹریلیا: ایرن فنچ (کپتان)، جیسن بیہرنڈارف، یلیکس کیری (وکٹ کیپر)، ناتھن کلٹر نائل، پیٹ کمنز، عثمان خواجہ، ناتھن لاین، شان مارش، گلین میکسویل، کین رچرڈسن، سٹیو سمتھ، مچل سٹارک، مارکس سٹونس، ڈیوڈ وارنر، ایڈم جامپا. بھارت: وراٹ کوہلی (کپتان)، جسپریت بمراہ، یجویندر چہل، شکھر دھون، مہندر سنگھ دھونی (وکٹ کیپر)، رویندر جڈیجہ، کیدار جادھو، دنیش کارتک، بھونیشور کمار، ہاردک پانڈیا، لوکیش راہل، محمد سمیع، وجے شنکر، روہت شرما ، کلدیپ یادو.

About the author

Taasir Newspaper