دنیا بھر سے

ترکی کے ساتھ مسلح مقابلہ نہیں چاہتے : شامی حکومت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 19-June-2019

دمشق،شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ وہ بشار الاسد کی فورسز اور ترکی کی فوج کے درمیان مسلح ٹکراؤ نہیں دیکھنا چاہتے۔المعلم کا یہ بیان منگل کے روز بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مختصر پریس بریفنگ کے دوران سامنے آیا۔واضح رہے کہ شامی حکومت کی فورسز کی جانب سے شمالی شام میں ترکی کی نگراں چوکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بالخصوص وہ چوکیاں جو حماہ اور ادلب میں جھڑپوں کے علاقوں کے متوازی ہیں۔ حماہ کے دیہی علاقے مورک میں رواں ہفتے دوسری بات برہ راست طور پر ترکی کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق اس کی فوج نے فائرنگ کرنے والے ذریعے کے خلاف جوابی کارروائی کی۔دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے خبردار کیا ہے کہ انقرہ اپنی فوج پر ہونے والے حملوں سے درگزر نہیں کرے گا۔ ادھر روس نے ترکی کی جانب سے جوابی عسکری کارروائی پر پہلی مرتبہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نا قابل قبول جارحیت ہے۔

About the author

Taasir Newspaper