سیاست سیاست

حکومت بہار نہیں چاہتی ہے کشن گنج میں امن وامان قائم رہے: ڈاکٹرجاوید

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-June-2019

کشن گنج (آفتاب عالم صدیقی) سب سے پہلے ایم پی ڈاکٹڑ محمد جاوید آزاد نے سبھی موجود لوگوں کو عید کا مبارک باد پیش کیا بعد ازیں انہوں نے لوگوں کو انہیں کامیاب کرانے میں اپنی حمایت کرنے اور اکثریت ووٹ سے کامیابی کو لیکر بھی شکریہ پیش کیا ۔کشن گنج پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو خطاب کرتے ہوئے کشن گنج کے کانگریسی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد نے ٹھاکرگنج بلاک کے تحت دھولاباڑی میں ہوئے آدی باسیوں کے ذریعہ چائے باغ میں ناجائز قبضہ کے علاوہ عید گاہ میں جھنڈا گاڑنے معاملہ میں ایم پی موصوف نے کہا کہ عید کے دن کے جوواقعہ رونما ہوا ہمارے لئے شرمناک ہے ۔ پچھلے دس سالوں میں کچھ لوگ روپئے کالالچ دیکر کچھ ناخوشگوار واقعہ رونما کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چائے باغ اور قائمی کھاتہ والی زمین پر ناجائز دخل کرنے کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے ۔ یہ حکومت بہارکی کمزوری اور کاہلی کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ ہزاروں ایکڑزمین پر ناجائز دخل دہانی کا معاملہ آرہاہے۔ کسی غریب کے زمین پر ناجائزدخل دہانی کا معاملہ رونما ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کشن گنج ڈی ایم اور ایس پی کے رہتے ہوئے پچھلے دنوں پوٹھیا تھانہ میں آگزنی کی گئی تھی۔ ہر معاملے میں ہم لوگ پسماندہ ہیں خواہ تعلیمی پسماندگی ہویا پھر لاء اینڈآرڈر کا معاملہ ہو۔ ڈی ایم اور ایس پی کو حکم دیا ہوں کہ آئندہ ایسانہیں ہو۔ حالیہ واقعہ میں مغربی بنگال اور دیگر ضلع سے روپئے دیکر زمین پر ناجائز قبضہ کروانے کے لئے آدی باسیوں کو لایاگیاہے۔ فوری کاروائی کی جائیگی۔ انہوں نے ضلع میں زیرتعمیر لوچاپل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ہنوز معاوضہ نہیں دیا گیا ہے بارش سے قبل لوچاپل کا تعمیری کام پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پل کشن گنج کے عوام کے لئے لائف لائن کے مانند ہے۔ جانچ کراکر ناجائز دخل ختم کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا میں نے ڈی ایم اور ایس پی کو کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں تیرچلانے والے آدی باسی کو پی آر بانڈ پر چھوڑدیا گیا۔ جس پر انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو کشن گنج کے لوگ سڑک پر اتریںگے۔ڈی ایم اور ایس پی کی موجودگی میں تھانہ جلادیا گیا ہویہ بیحد خطرناک بات ہے۔ بہار کی ریاستی حکومت اسکے لئے ذمہ دار ہے۔ آج کی حکومت نرم رویہ اپنارہی ہے یا یوں کہا جائے کہ ریاسی حکومت کو ان واقعات سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ تیرسے یہاں کے لوگ زخمی ہوںاور یہیں کے لوگ بدنام بھی ہوں۔ یہی بہارسرکار کی منشاء ہے کہ کشن گنج تباہ ہو۔ پچھلے دوسالوں میں جرائم میں اضافہ ہوا۔ زنابالجر،ڈکیتی سمیت دیگر جرائم شامل ہیں۔ آدی باسی سیدھے سادے قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔اس واقعہ کے پیچھے کچھ لوگ ہیں جوانہیں ابھاررہے ہیں ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے انہوں نے زوردیا۔ ضلع انتظامہ پوری توجہ کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ انہیں سرکاری زمین خرید کر دیا جائے۔ مگر ناجائز دخل سے انہیں ہٹایا جائے۔ نامہ گاروں کے ذریعہ اے ایم یو پر سوال پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کا مدعہ جذباتی مدعہ بن گیا ہے۔لاکھوں لوگ دھرنے پر بیٹھے تھے ۔ مگر تعمیری کاموں میں روک لگادیا گیا ہے۔اس پر رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرمحمد جاوید آزاد نے کہا کہ اس دفعہ ہاؤس میں اسکا معاملہ اٹھاؤںگا۔اس سے قبل اسکی پوری تفصیلات کی جانکاری لے لوں پھرپارلیمنٹ میں آوازبلند کروں گا۔

About the author

Taasir Newspaper