سیاست سیاست

دلت بھاجپا کے ساتھ، سپا اور بسپا کا اتحاد فیل

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-June-2019

متھورا(اقرار علی)وزیر اعظم نریند مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حاشیہ کے سماج کو جو عزت دی ہے وہ آزادی کے 70 سال بعد بھی دیگر سرکاروں میں نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک کا دلت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہے۔ یہ باتیں انوسوچیت جاتی فائنس اینڈ ڈیوپلمپٹ کارپوریشن کے صدر و وزیر مملیکت (درجہ حاصل) ڈاکٹر لال جی پرساد نرمل نے متھورا میں برجواسی رائل میں پریس کانفرنس کے دوران کہی ہیں۔ڈاکٹر نرمل نے آگئے کہا کہ وزیر اعظم نریند مودی نے لوک سبھا انتخاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک میں جاتی واد اور پریوار واد کا راگ اب نہیں چلے گا۔ ملک وکاس واد کے راستے پر آگے بڑھ چلا ہے۔کچھ خاندان ملک میں راج شاہی قائم کرنا چاہتے ہیں، لیکن لوک سبھا انتخاب میں آم لوگوں نے انہیں منہ توڑ جواب دیا ہے۔ یہ حمایت جمہورت میں راج تنتر قائم کرنے والوں کے گال پر طماچہ ہے۔گائوں سطح پر ترقی ، کسانوں کے بینک کھاتوں میں سیدھے 2000 روپے کی رقم کا دیا جانااور پہلی بار زمین پر دکھ رہے سرکاری منصوبوں نے کسانوں کے چہروں پر مسکان لا دی ہے۔اجولا گیس منصوبہ ، وزیر اعظم رہائشی منصوبہ ، مفت بجلی منصوبہ اور بیت الخلا منصوبہ نے ہر گھر میں سہولیات دینے کا کام کیا ہے۔کوئی ایسا گائوں نہیں ہے جہاں ان منصوبوں کا فائدہ نہ پہنچا ہوں ۔ڈاکٹر نرمل نے پریس کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ دلتوں نے بھاجپا کو عظیم جیت دلائی ہے۔ ما یا وتی اب صرف ایک ذات کی لیڈر رہ گئی ہیں ۔ مایا وتی اور اکھیلس یادو نے جاتی وادی اتحاد کر نریند مودی کو اقتد ار سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اسے عوام نے نکار دیا ہے۔یہی نہیں دلتوں کی دیوی ہونے کا راگ الاپنے والی مایاوتی نے اتحاد کی بدولت وزیر اعظم ہونے کا خواب تک دیکھا شروع کر دیا تھا۔مایا وتی کے منصوبوں پر دلتوں نے ہی پانی پھیر دیا ہے۔وہ 10 سٹ سے آگے نہیں بڑھ پائیں۔اگر مایاوتی خد اکیلے لوک سبھا انتخاب لڑتی تو یہ اس بار بھی صفر پر رہ جاتیں۔ اس ڈر سے ہی مایاوتی نے امبیڈکر مخالف پارٹی سپا سے اتحاد کر انتخاب لڑا۔ دلت اس سے نا راض ہو گئے۔ اور وہ بھاجپا کی طرف شفٹ ہوگئے۔

About the author

Taasir Newspaper