ہندستان ہندوستان

سرکاری ذرائع کےکام کرنے کےطریقے میں شفافیت بڑھانا ایکٹ کا مقصد ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-June-2019

متھورا(اقرار علی) اطلاح کے حقوق ایکٹ 2005 اور اتر پردیش اطلاع کے حقوق ایکٹ 2015 کے تحت عام عوام کے اصلاح کو اور زیادہ اثردار بنانے کے مقصد سے متھورا میں ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد وٹنری کالج کے کسان کانفرنس ہال میں ریاستی اطلاح کمشنر مسٹر راجیو کپور کی صدارت میں کیا گیا۔ انہوں نے آر ٹی آئی ورکشاپ میں جنپد سطح کے عوامی اطلاع افسران اور دیگر افسران سے خطاب کرتے ہوئے اطلاع کے حقوق ایکٹ 2005 ایک انقلابی ایکٹ ہے۔ یعنی ـ’انفورمیشن ایز پاور‘ گوڈ گورنس کیلئے یہ ایک بہت بڑی قوت ہے۔ اس کا مقصد سرکاری کام میں شفافیت کو بڑھاوا دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکٹ 2005 کو اور زیادہ اثردار بنانے کے مقصد سے اتر پردیش کے اطلاع کے حقوق ایکٹ 2015 جو کے دسمبر 2015 میں قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے تحت عوامی اطلاع افسر بہت ہی اہم کڑی ہے۔اس لئے ہم ایک عوامی اطلاع افسر کی اہم ذمہ داری ہے کہ درخواست کو متعین وقت کے اندر اطلاع مہیا کرانے میں کسی طرح کی کوتاہی نا بترتنے کی انہوں نے ہدایت دی کہ جب مقامی سطح پر ڈھیلائی برتی جاتی ہے تبھی درخواست دہندگان کو اپیل کرنی پڑتی ہے۔ اور عوامی اطلاع افسران کو لکھنؤ تک جانا پڑتا ہے اس لئے درخواست داہندگان کو ضابطے کے مطابق اطلاع اولیت پر مہیا کر ادیں۔انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ عوامی اطلاع افسر کے کنٹرول یا دفتر میں میں مہیا جانکاری /اطلاع ہی دستیاب کرانی ہوتی ہے۔ اسی اطلاع کا تشریح کرنا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آر ٹی آئی ایکٹ دنیا کاا علیٰ ترین حق ہے۔درخواست دہندگان کو اطلاع مہیا کرانا عوامی اطلاع افسر کی اہم ذمہ داری ہے۔ اگر درخواست دہندہ کے ذریعہ ان کے ذریعہ دی گئی جانکاری دفتر میں دستیاب نہیں ہے تو عوامی اطلاع افسر دینے کیلئے مجبور نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے لئے درخواست دہندہ کو تحریر تور سے بتانا ہوگا کہ کسی وجہ سے جان کاری نہیں دی جا سکتی ہے۔جس کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی سرکاری لیٹر پر کسی افسر یا ملازمین سے متعلق مختلف جانکاری دستیاب ہے تو اسے انفرادی جانکاری نہیں مانا جائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper