ہندستان ہندوستان

سرکار اورپاور کارپوریشن کی کارکردگی قابل مذمت:صابر خان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-June-2019

سہارنپور( احمد رضا) گزشتہ دو ماہ سے ضلع میں بجلی کٹوتی بڑے پیمانہ پر جاری ہے نتیجہ کے طور پر یہاں سے ساٹھ فیصد انڈسٹریز اتراکھنڈ کے بھگوان پور، روڑکی اور دہرادون کے متصل علاقوں میں منتقل ہوچکی ہیں اسکے بعد بھی مقامی یوپی پی سی پچیس فیصد بجلی شرح بڑھانے پر بضد ہے یہ عوامی مفادات کیلئے خطرناک قدم ہوگا !سوشل قائد صابر علیخان نے ایک ملاقات میں سرکاری کارکردگی اور پاور کارپوریشن کے عملی اقدام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں سب سے مہنگی بجلی ہمارے اتر پردیش میں ہے یہاں بجلی سپلائی، بجلی چوری اور اوور لوڈنگ کے نام پر لوٹ مچی ہے اسیلئے یہاں سے ساٹھ فیصد انڈسٹریز نزدیکی ریاست اترا کھنڈ میں منتقل ہوچکی ہیں اسکے بعد بھی سرکار اور پاور کارپوریشن کو شرم نہی پھر سے بڑے اضافہ کی تیاری ہے اگر ایسا ہوا تو یہاں کا ووڈ کارونگ اور ٹیکنیکل طبقہ مستقل طور سے دیگر مقامات پر چلاجائیگا اور ویسٹ یوپی کی سب سے بڑی ووڈین انڈسٹری کی بچی ہوئی یونٹ بھی تباہ ہوکر رہجائیگی پہلے ہی بیروزگاری حدیں پار کرچکی ہے اگر یہ اضافہ ہوا تو کام دھندے ٹھپ ہوجانے سے بیروزگاری مزید بڑھ جائیگی! سوشل قائد اور بڑے انڈسٹریل گھرانہ کے سرپرست صابر علیخان نے بیباک لہجہ میں کہاکہ پہلے ہی بجلی سپلائی ریگولر نہی ہونے اور معقول کام کاج نہ ہونے کے نتیجہ میں آج کل خد ہی ضلع میں سخت ترین گرم دنوں میں عوام روزی روٹی سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں دوسری جانب ضلع سہارنپور میں پاور کارپوریشن اور دیگر اہم محکموں کے افسران کی لگاتار کیجانے والی ہٹلر شاہی سب کے سامنے ہیںپچھڑے، پسماندہ، غریب ا ور مفلس عوام کے ساتھ محکمہ کے لوگوں کا رویہ شرمناک بنا ہوا ہے میٹر چیکنگ ، کٹیا سے بجلی چوری، کم یا زائد ریڈنگ اور اوورلوڈنگ کے نام پر عوام کا خون چوسا جا رہا ہے اس کے علاوہ بجلی چوری کے نام پر غریب لوگوں کے خلاف شہر اور دیہات کے علاقوں میں محکمہ کے لوگوں کا ظلم لگاتار جاری ہے عام لوگوں کا کہناہے کہ پاور کارپوریشن کے انجینئرس کے ذریعہ بجلی چوری کے نام پر زیادہ تر جھوٹی رپورٹیںہی تھانوں میں درج کرائی جا رہی ہیں محکمہ کے افسران ان جھوٹی رپورٹوں کی جانچ کے لئے کسی بھی طرح سے تیار نہیں ہے پی سی افسران اور ملازمین کا صاف کہناہیکہ اگرآپ کو جیل سے بچنا ہے تو سیدھے ۰ ۳ ہزار کی رسید کٹوائو اور اپنی جان بچائوکیلاشپور ، چلکانہ، سرساوہ، نکڑا ور شہر سہارنپور کے مختلف علاقوںمیں اس طرح کے معاملات سیکڑوںکے حساب سے ہر ہفتہ آن ریکارڈ ہو رہے ہیں جو غیر جمہوری کارکردگی ہے۔ سوشل قائدصابر علیخان نے کہاہیکہ ہٹلر شاہی کے جنون میں محکمہ کے افسران غریب عوام کی کسی بھی شکایت کو کسی بھی صورت سننے کو تیار نہیں ہے عوام کا صاف طور سے کہنا ہے کہ پہلے ہی ہم بجلی چوری کے نام پر ۶۰ فیصد پسماندہ، پچھڑے اور کمزور مسلمانوں کا استحصال عام بات ہوچکی ہے اب اس اضافہ سے مزید مشکلات بڑھ جائیں گی عوام مزید الجھ جائیگا پولس کو بھی معلوم ہے کہ پسماندہ بستیوں میں بجلی چوری کی رپورٹ جھوٹی ہے مگر پولیس بھی اور پولیس کے سینئر حکام بھی سب کچھ دیکھ کر خاموش تماشادیکھتے رہتے ہیںآجکل ضلع کے مختلف علاقوں میں پاور کارپوریشن کے خلاف بہت سے مقامات مظاہرے کئے جارہے ہیں اور بجلی آفسوں کو گھیرائو بھی کیا جا چکا پچھلے کچھ دنوں سے کمزور، پچھڑے اور دلت علاقوں میں پاور کارپوریشن کے ملازمین اور افسران کا جبر کچھ زیادہ ہی بڑھ گیاہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج عوام بجلی ملازمین کے خلاف سڑکوں پر آنے لگاہے دوہزار کے بل بقایا داروں کے کنیکشن کاٹے جارہیہیں لاکھ روپیہ کے بل بقایا دار کو چھوٹ دیجارہی ہے گزشتہ اٹھارہ ماہ سے یہاں یہی روایت جاری ہے غریبوں کا کوئی پرسابن حال نہی ہٹلر شاہی کا کھلا منظر یہاں سبکے سامنے ہے مگر نیچے سے اوپر تک سبھی چپ رہکر تماشا دیکھ رہے ہیں عوام تنگ اور پریشان ہے!سوشل قائدصابر علی نے کہاہیکہریاستی انتظامیہ کا کہناہے کہ کسی بھی شکایت کے ملنے پر حکام خود موقع پر جائے اور جانچ کے بعد اس شکایت کا لازمی طور پر نپٹارا کریں اگر ایسا کرنے میں افسر ناکام ہیں ایسے افسرانکے خلاف بھی سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کمزوروں کو انصاف مل سکے سوشل قائدنے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سخت لہجہ اور ہدایت کے بعد بھی افسران نے اپنا رویہ نہیں بدلا ہے اور عوام جس طرح پہلی سرکار میں تنگ و پریشان تھا اسی طرح سے اس سرکار میں بھی تنگ و پریشان ہیں عام لوگوں کا کہناہے کہ پاور کارپوریشن کے ملازمین، پولیس اور تحصیل کے افسر اور ملازمین عوام کی کسی بھی دکھ بھری بات کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں جو درخواست لیکر وہ محکمہ پاور کارپوریشن کے انجینئرس اور اسی طرح تحصیل کے افسران اور ملازمین کے پاس جاتے ہیں تو انکو بھگا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے جو چاہو کرلو اگر بھاجپا سرکار میں غریب عوام کو استحصال اسی طرح جاری رہا تو عوام جلد ہی اس ریہ کیخلاف سڑکوں پر آنیکو مجبور ہوں گے۔

About the author

Taasir Newspaper