دنیا بھر سے

ناروے کے فر فارم بند ہونے لگے ہیں

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-June-2019

اُسلو ،ناروے کی پارلیمنٹ اس مہینے ایک نیا قانون لا رہی ہے جس کے تحت مخصوص قسم کے نیولوں کو پالنے کے نئے فارم قائم کرنے پر پابندی لگ جائے گی جب کہ پرانے فارم یکم فروری 2025 تک بند کر دیے جائیں گے۔جانوروں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کی جانب سے اس پابندی کو سراہا گیا ہے۔ جب کہ ناروے کے 200 سے زائد نیولوں کے فارم کے مالکان کی جانب سے اس پابندی پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ اگرچہ نیولے پالنے کا فارم ایک جز وقتی کارروبار ہے لیکن یہ بہت منافع بخش بزنس ہے۔ایک نیولا فارم کے مالک کرسٹیان ایسن کے مطابق ‘‘میری 70 فی صد آمدنی اس فارم سے حاصل ہوتی ہے۔’’شمال مشرقی ناروے میں واقع اس فارم میں چھ ہزار سے زائد نیولے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘‘ میں ان نیولوں سے حاصل ہونے والی کھال کے بغیر گزارا نہیں کر سکتا۔’’نومبر آنے تک نیولوں کے بچوں کی کھال پر فر آ جاتی ہے جس کے لیے انہیں پالا جاتا ہے۔ یہ فر، سردیوں میں استعمال کیے جانے والے کوٹوں پر استعمال ہوتی ہے اور بیش قیمت ہوتی ہے۔ یہ فر حاصل کرنے کے لیے نیولوں کے بچوں کو زہریلی گیس سے ہلاک کرنے کے بعد ان کی کھال اتار لی جاتی ہے۔دنیا بھر میں نیولوں اور لومڑی کی کھال سے بننے والے ملبوسات کا ایک فی صد ناروے میں تیار ہوتا ہے۔ اب برطانیہ اور ہالینڈ کے بعد ناروے تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں اس کاروبار پر پابندی لگا دی گئی ہے۔جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نوحا کے سربراہ سری مارٹنسن کا کہنا تھا کہ ‘‘یہ ناروے میں جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے لوگوں میں یہ شعور پیدا ہوا ہے کہ جانور محض رقم کمانے اور کاروبار کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔’’انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ بہت ظالمانہ عمل ہے۔ ان جانوروں کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں بند کر دیا جاتا ہے۔’’ناروے کے فر فارمرز اس پابندی سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ‘‘ناقابل جواز، غیر قانونی اور غیر جمہوری ہے۔’’‘‘یہ ایک نفع بخش اور سبسڈی کے بغیر چلنے والا کاروبار ہے جس کی وجہ سے ناروے کے دور دراز علاقوں کو ایک صدی سے روزگار مل رہا ہے۔’’حکومت کا پابندی سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ناروے کی اسمبلی کے ایک ممبر مورٹن آرسل جوہانسن کا کہنا ہے کہ ‘‘ناروے میں فر کا کاروبار اب ختم ہو گیا ہے۔’’حکومت کی جانب سے ان فارموں کی مدد کے لیے پچاس کروڑ کرونر مختص کے گئے ہیں، جو 57 ملین ڈالر کے مساوی ہیں۔مگر فارم مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں کم از کم دو ارب تیس کروڑ کرونر کی رقم درکار ہو گی۔

About the author

Taasir Newspaper