دنیا بھر سے

امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان منجمد تعلقات کی برف پگھلنا شروع؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-July-2019

رام اللہ/واشنگٹن،فلسطینی اتھارٹی نے امریکی وائٹ ہاؤس کو حالیہ چند دنوں میں ایسے ’’نرم خو پیغامات‘‘ بھیجے ہیں جو مشرق وسطیٰ کے دیرینہ قضیہ فلسطین کے حل کے لئے پیش کردہ ’’صدی کی ڈیل‘‘ سے متعلق مقتدرہ کی قیادت کی سخت گیر سوچ میں لچک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس امر کا انکشاف معاصر عزیز عرب اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ نے اسرائیلی رپورٹس کے حوالے سے اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔اسرائیلی اخبار یسرائیل ھیوم‘‘ نے فلسطینی مقتدرہ کے ہیڈ کوارٹر رام اللہ کے مقرب عہدیدار کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں رام اللہ اور واشنگٹن کے درمیان معاملات کو درست نہج پر لانے، فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے داماد اور مشیر برائے مشرق وسطی جیرڈ کشنر اور علاقے کے لئے ان کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے سے متعلق پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایک فلسطینی عہدیدار نے توقع ظاہر کی کہ رام اللہ سے جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ ماجد فرج کی قیادت میں فلسطینی وفد جلد واشنگٹن کے لئے روانہ ہو جہاں وہ بڑے امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ صدرٹرمپ اور فلسطینی صدر ابو مازن کے قریبی حکام کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقاتوں اور رابطوں کے بعد سے امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان عرصے سے منجمد تعلقات کی برف پگھلناشروع ہو گئی ہے۔ فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ رابطے حالات جانچنے کی کوشش تھے جس میں دونوں فریقین نے مثبت نقطہ نظر پیش کیا اور ان میں تجدید تعلقات کی جانب پیش قدمی کا امکان دیکھنے کو ملا۔’’الشرق الاوسط‘‘ کے مطابق اسرائیلی اخبار نے بتایا کہ ابو مازن کی جانب سے بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کی کال کے باوجود عرب دنیا کی اس ورکشاپ میں شرکت کی وجہ سے فلسطینی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ نیز رام اللہ حکومت سمجھتی ہے کہ ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا سیاسی نقشہ اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد پیش کیا جائے گا، لہذا فلسطینی اتھارٹی اور امریکی صدر کے درمیان تعلقات درست ہونا لازمی ہے۔ تیسری وجہ فلسطین کی دگرگوں معاشی صورتحال ہے۔ فلسطینی اتھارٹی چاہتی ہے کہ یہ امداد بحال ہو۔ ایسی اطلاعات تواتر سے سامنے آ رہی ہیں جن میں 2020 میں ہونے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی کا چرچا دیکھنے میں آ رہا ہے۔’’خفیہ رابطوں‘‘ سے پہلے امریکا اور فلسطین ایک دوسرے پر سخت الزامات لگاتے آئے ہیں۔ فلسطینی قیادت نے بحرین ورکشاپ کا بائیکاٹ کیا جس کے بعد جیرڈ کشنر نے ابو مازن پر الزام عاید کیا کہ وہ کانفرنس کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اسی لئے انھوں نے اس میں شرکت کا بائیکاٹ کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2017 میں واشنگٹن کا سفارتخانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے اعلان کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات منقطع چلے آ رہے ہیں۔ بائیکاٹ کا یہ سلسلہ اس وقت معاندانہ اقدامات کی حدود میں داخل ہو گیا جب صدر ٹرمپ نے فلسطینیوں کی ہر قسمی مالی امداد بند کر دی اور واشنگٹن میں فلسطینی اتھارٹی کا نمائندہ دفتر بند کر دیا۔فلسطینی ایوان صدر نے فوری طور پر امریکا سے تعلقات بحالی کی اطلاعات پر تبصرہ نہیں کیا تاہم صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی موقف ثابت قدم ہے اور مسلمہ اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس مسلمہ اصولوں کی وضاحت فلسطینی قیادت کئی مرتبہ کر چکی ہے۔ ان میں دو ریاستی حل کے ساتھ ایسی فلسطینی ریاست کا قیام جس کا صدر مقام القدس ہو۔ نیز شہیدوں اور قیدیوں کے معاملے میں افراط وتفریط سے کام نہ لیا جائے۔

About the author

Taasir Newspaper