ہندستان ہندوستان

بابری مسجد معاملے میں ہمارا عدالت پر مکمل اعتماد:ارشد مدنی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-July-2019

نئی دہلی (پریس ریلیز) بابری مسجد ملکیت تنازعہ کے ایک فریق گوپال سنگھ وشارد کی عرضی پر چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی پانچ رکنی بینچ نے آج سماعت کرتے ہوئے مصالحت کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ 18؍جولائی تک اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے ، چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ عدالت پہلے مصالحت کمیٹی کی رپورٹ کا مطالعہ کریگی اور اگر عدالت یہ محسوس کرے گی کہ مصالحت کے تعلق سے کوئی امید افزاء پیش رفت نہیں ہوئی اوریہ کہ مصالحت سے اس مسئلہ کاحل نکلتاہو انہیں محسوس ہورہا ہے تو عدالت آئندہ 25؍جولائی سے اس معاملہ پر روزانہ سماعت شروع کرسکتی ہے ، قابل ذکر ہے کہ گوپال سنگھ وشاردبھی اس مقدمہ میں فریق ہیں پچھلے دنوں انہوں نے عدالت میں ایک عرضی داخل کرکے معاملہ کی جلد سماعت کی درخواست کی تھی انہوں نے عرضی میں کہا تھا کہ مصالحت میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے اس لئے اس کی باقاعدہ سماعت کی جانی چاہئے ، اس عرضی پر غورکرتے ہوئے آج عدالت نے یہ اشارہ دیا کہ اگر مصالحت کی کوششوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے تو اب عدا لت اس معاملہ کی عنقریب روزانہ سماعت کرسکتی ہے ، واضح رہے کہ بات چیت کے ذریعہ اس معاملہ کا حل نکالنے کیلئے سپریم کورٹ نے سابق جج ایم ایم خلیفۃ اللہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی پینل قائم کیا تھا جس میں مذہبی گرو شری شری روی شنکر، اور سینئر ایڈوکیٹ شری رام پنچوشامل ہیں ، پچھلی سماعت میں اس کمیٹی نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ مصالت کیلئے اسے مزید مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اسے 15اگست تک کی مہلت دی تھی ، دوران کارروائی آج عدالت نے فریق اول جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈو کیٹ ڈاکٹر راجیودھون ودیگر وکلاء موجودتھے ، آج کی پیش رفت پر ڈاکٹر راجیودھون نے کہا کہ وہ عدالت کا حکم ما ننے کو تیارہے اورجب بھی معاملہ کی سما عت شروع ہوگی وہ عدالت میں مزید بحث کے لئے موجودہوںگے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ موقع مصالحتی پینل پر تنقید کا نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی رپورٹ کا انتظار کرناچاہئے کیونکہ یہ پینل خودعدالت نے تشکیل دیا تھا لیکن اگرفریق مخالف اس عمل سے اکتاگیا ہے تو اس میں مصالحتی پینل کا کوئی قصورنہیں ہے ۔جمعیۃعلماء ہند کے صد رمولانا سید ارشد مدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ہم تو شر وع سے چا ہتے ہیں کہ عدالت اس معا ملہ میں اپنا فیصلہ دے ، لیکن چونکہ عدالت مصا لحت کے ذریعہ اس کا حل چاہتی تھی اور اس کیلئے اس نے باضابطہ طورپر مصالحت کارو ں کا ایک پینل بھی قائم کردیا تھا اس لئے عدالت کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہم نے مصالحت کارو ں کے ساتھ تعاون کیا اور ان کے سا منے اپنا موقف رکھا ، مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلاء اب مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکررہے ہیں اور اب 18جولائی کے بعد ہی یہ بات سامنے آئے گی کہ آئندہ عدا لت کی حکمت عملی کیا ہوگی تاہم اگر 25جولائی سے سماعت کا آغاز ہوتاہے تو اس کیلئے ہمارے وکلاء پوری طرح تیارہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس پر اعتمادبھی کرتے ہیں ہم انصاف چا ہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ عدالت محض اعتقادکی بنیادپر کوئی فیصلہ نہیں کریگی بلکہ اس کا فیصلہ ثبوت وشواہد کی بنیادپر ہوگا انہو ں نے تمام لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ قانونی عمل پر اعتمادرکھیں اور صبروتحمل کے سا تھ عدالت کے فیصلہ کا انتظارکریں ساتھ ہی غیر ضروری بیان بازی سے بھی گریز کریں تاکہ معاشرہ میں کسی قسم کا اشتعال نہ پھیلے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے جو ملکیت سے جڑاہواہے اوراس معاملہ میں ہماراموقف بہت مضبوط ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper