دنیا بھر سے

برطانوی آئل ٹیبکر پر ایرانی قبضہ، اٹھارہ بھارتی بھی تحویل میں

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 22-July-2019

آبنائے ہرمز /نئی دہلی،ایران نے آبنائے ہرمز سے جس برطانوی آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا ہے، اس میں سوار عملے کے تیئس افراد میں سے اٹھارہ کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔بھارت اور فلپائن کی حکومتوں نے تصدیق کر دی ہے، جمعے کے دن آبنائے ہرمز سے ایرانی قبضے میں لیے جانے والے برطانوی آئل ٹینکر کے عملے میں ان کے شہری بھی شامل ہیں۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ہفتے کے دن بتایا کہ بھارتی حکام ایران میں متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ بھارتی شہریوں کی بازیابی جلد از جلد ممکن بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحری جہاز میں اٹھارہ بھارتی موجود ہیں۔منیلا میں وزرات خارجہ نے کہا ہے کہ تہران میں ان کے سفیر کوشش میں ہیں کہ اس ٹینکر میں سوار ایک فلپائنی شہری کو جلد از جلد رہا کر دیا جائے۔ بتایا گیا کہ ہے کہ فلپائنی حکام کی کوشش ہے کہ فلپائنی شہری کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جائے۔ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق اس برطانوی آئل ٹینکر میں سوار عملے کے دیگر چار ارکان میں سے تین کا تعلق روس جبکہ ایک کا لیٹویا سے ہے۔ادھر جرمنی اور فرانس نے ایران کی طرف سے برطانوی آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لینے کے عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جرمن وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں برطانوی تجارتی جہاز پر ایرانی قبضہ ‘ناقابل جواز‘ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اس طرح خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ جرمنی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اس ٹینکر اور اس میں سوار عملے کے ارکان کو فوری طور پر چھوڑ دے۔برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے ایران کی طرف سے اپنے آئل ٹینکر پر قبضے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اس ٹینکر کو نہ چھوڑا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پریشان کن پیش رفت ہے اور ‘ایران شاید غیرقانونی اور عدم استحکام کا باعث بننے والا خطرناک رویہ اختیار کر رہا ہے۔‘ انہوں نے واضح کیا ہے کہ لندن حکومت اپنے بحری جہاز کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس تناظر میں فوجی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

About the author

Taasir Newspaper