اسلام

دعا مومن کا ہتھیاراور عبادت کا جوہر ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-July-2019

قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے: ’’اسی کو پکار نا برحق ہےاور یہ لوگ اس کو چھوڑ کر جن ہستیوں کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعائوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ ان کو پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا کر چاہے کہ پانی( دور ہی سے) اس کے منہ میں آپہنچے، حالاں کہ پانی اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بے نتیجہ بھٹک رہی ہیں۔‘‘ (الرعد:۱۴ )یعنی حاجت روائی اور کار سازی کے سارے اختیارات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے سوا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو بندوں کی پکار سنے اور ان کی دعائوں کا جواب دے۔ ’’انسانو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اللہ ہی ہے جو غنی اور بے نیاز اور اچھی صفات والا ہے۔‘‘(فاطر:۱۵) نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے:’’ میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کر لیا ہے تو تم بھی ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کو حرام سمجھو، میرے بندو! تم میں سے ہر ایک گم راہ ہے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں۔ میرے بندو! تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس شخص کے جس کو میں کھلا ئوں۔ پس تم مجھی سے روزی مانگو تو میں تمہیں روزی دوں، میرے بندو!تم میں سے ہر ایک ننگا ہے سوائے اس کے جس کو میں پہنائوں، پس تم مجھی سے لباس مانگو میں تمہیں پہنائوں گا۔ میرے بندو! تم رات میں بھی گناہ کرتے ہو اور دن میں بھی اور میں سارے گناہ معاف کر دوں گا۔‘‘ (صحیح مسلم) اور آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فر مایا ہے کہ آدمی کو اپنی ساری حاجتیں اللہ ہی سےمانگنی چاہئیں۔ یہاں تک کہ اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اللہ ہی سے مانگے اور نمک کی ضرورت ہو تو وہ بھی اسی سے مانگے۔(ترمذیمطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کیلئے بھی اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کے سوا نہ کوئی دعائوں کا سننے والا ہے اور نہ کوئی مرادیں پوری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے وہی کچھ مانگے جو حلال اور طیب ہو، ناجائز مقاصد اور گناہ کے کاموں کیلئے اللہ کے حضور ہاتھ پھیلا نا انتہائی درجے کی بے ادبی، بے حیائی اور گستاخی ہے۔ حرام اور ناجائز مرادوں کے پورا ہونے کیلئے اللہ سے دعائیں کرنا اور منتیں ماننا دین کے ساتھ بد ترین قسم کا مذاق ہے ۔ اسی طرح ان باتوں کیلئے بھی دعاء نہ مانگئے جو اللہ نے ازلی طور پر طے فرما دی ہیںاور جن میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ مثلاً کوئی پستہ قد انسان اپنے قد کے دراز ہونے کی دعا کرے یا کوئی غیر معمولی دراز قد انسان قد کے پست ہونے کی دعا کرے یا کوئی دعا کرے کہ میں ہمیشہ جوان رہوں اور کبھی بڑھاپا نہ آئے وغیرہ دعاء گہرے اخلاص اور پاکیزہ نیت سے مانگئے اور اس یقین کے ساتھ مانگئے کہ جس اللہ سے آپ مانگ رہے ہیں وہ آپ کے حالات کا پورا پورا یقینی علم بھی رکھتا ہے اور آپ پر انتہائی مہربان بھی ہے، اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی پکار سنتا اور ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ نمود و نمائش، ریاکاری اور شرک کے ہر شائبے سے اپنی دعائوں کو بے آمیز رکھئے۔ قرآن میں ارشاد ہے:’ ’پس اللہ کو پکارو اس کیلئے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے‘‘۔ (المومن:۱۴) نیک مقاصد کیلئے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو اللہ کی ہدایت کے مطابق سنوارنے اور سدھار نے کی بھی کوشش کیجئے۔ گناہ اور حرام سے پوری طرح پرہیز کیجئے۔ حرام کھا کر، حرام پی کر، حرام پہن کر اور بے باکی کے ساتھ حرام کے مال سے اپنے جسم کو پال کر دعا کرنے والا یہ آرزو کرے کہ میری دعا قبول ہو، تو یہ زبردست نادانی اورڈھٹائی ہے۔ دعا کو قابل قبول بنانے کیلئے ضروری ہے کہ آدمی کا قول و عمل بھی دین کی ہدایت کے مطابق ہو۔ نبیﷺ نے فر مایا: اللہ پاکیزہ ہے اور وہ صرف پاکیزہ مال ہی کو قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنوں کو اسی بات کا حکم دیا ہے، جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے، چنانچہ اس نے فر مایا ہے: اے رسولو! پاکیزہ روزی کھائو، اور نیک عمل کرو‘‘۔ اے ایمان والو! جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں وہ کھائو۔‘‘دوسروں کیلئے بھی دعا کیجئے۔ لیکن ہمیشہ اپنی ذات سے شروع کیجئے۔ پہلے اپنے لئے مانگئے پھر دوسروں کیلئے قر آن پاک میں حضرت ابراہیم ؑاور حضرت نوحؑ کی دو دعائیں نقل کی گئی ہیں، جن سے یہی سبق ملتا ہے:’’ اے میرے پرور دگار! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا، اور میری اولاد سے بھی( ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں)۔پرور دگار! میری دعا قبول فر ما اور میرے والدین اور سارے مسلمانوں کو اس دن معاف فرما دے جب حساب قائم ہو گا۔‘‘(ابراہیم:۴۰،۴۱)’’ میرے رب! میری مغفرت فرما اور میرے ماں باپ کی مغفرت فر ما اور ان مومنوں کی مغفرت فرما جو ایمان لاکر میرے گھر میں داخل ہوئے اور سارے ہی مو من مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما۔‘‘ حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں ، نبی ﷺ جب کسی شخص کا ذکر فرماتے تو اس کے لئے دعا کرتے اور دعا اپنی ذات سے شروع کرتے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ خاص اوقات اور حالات ایسے ہیں، جن میں خصوصیت کے ساتھ دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں لہٰذا ان مخصوص اوقات اور حالات میں دعائوں کا خصوصی اہتمام فر مایئے۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے:’’اللہ تبارک وتعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے کون مجھے پکارتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اس کو عطا کروں، کون مجھ سے مغفرت چاہتا ہے کہ میں اسے معاف کروں‘‘۔(تر مذی) شب قدر میں زیادہ سے زیادہ دعا کیجئے کہ یہ رات اللہ کے نزدیک ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے اور یہ دعاء خاص طور پر پڑھئے:اَلّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَا عْفُ عَنِّیْ(ترمذی) خدایا!تو بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف کر دے۔‘‘ میدان عرفات میں جب۹؍ ذو الحجہ کو خدا کے مہمان جمع ہوتے ہیں(ترمذی) جمعہ کی مخصوص ساعت میں جو جمعہ کاخطبہ شروع ہونے سے نماز کے ختم ہونے تک ہےیا نماز عصر کے بعد سے نماز ِمغرب تک ہے۔ اذان کے وقت اور میدانِ جہاد میں جب مجاہدوں کی صف بندی کی جا رہی ہو۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے:’’دو چیزیں اللہ کے دربار سے رد نہیں کی جاتیں، ایک اذان کے وقت کی دعا دوسری جہاد(میں صف بندی)کے وقت کی دعا۔‘‘ اذان اور تکبیر کے درمیان وقفے میں نبیﷺ کا ارشاد ہے:’’اذان اور اور اقامت کے درمیانی وقفے کی دعارد نہیں کی جاتی۔‘‘صحابۂ کرامؓ نے دریافت کیا۔ یا رسول اللہﷺ اس وقفے میں کیا دعا مانگا کریں۔ فرمایا یہ دعا مانگا کرو: ’’ خدایا! میں تجھ سے عفو وکرم اور عافیت و سلامتی مانگتا ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘ رمضان کے مبارک ایام میں بالخصوص افطار کے وقت۔(بزار) فرض نمازوں کے بعد۔(تر مذی) چاہے آپ تنہا دعا کریں یا امام کے ساتھ۔ سجدے کی حالت میں۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے: سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے بہت ہی قربت حاصل کر لیتا ہے پس تم اس حالت میں خوب خوب دعا مانگا کرو۔جب آپ کسی شدید مصیبت یا انتہائی رنج و غم میں مبتلا ہوں۔جب ذکر و فکر کی کوئی دینی مجلس منعقد ہو۔(بخاری،مسلم) جب قران پاک ختم ہو۔(طبرانی) ان مقامات پر بھی دعا کا خصوصی اہتمام کیجئے:ملتزم کے پاس، میزاب کے نیچے، کعبہ کے اندر، چاہ زمزم کے پاس،صفا ومروہ پر،صفا ومروہ کے پاس جہاں سعی کی جاتی ہے، مقام ابراہیم کے پیچھے، عرفات میں، مزدلفہ میں، منیٰ میں،تینوں جمرات کے پاس(حصن حصین)جاری

About the author

Taasir Newspaper