کھیل

سمیع کو سیمی فائنل سے باہر رکھنے پر اٹھے سوال

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-July-2019

مانچسٹر،(یو این آئی ) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے آئی سی سی ورلڈ کپ کے منگل کو نیوزی لینڈ کے خلاف اہم سیمي فائنل کیلئے شاندار فارم میں کھیل رہے فاسٹ بولر محمد سمیع کو آخری الیون سے باہر رکھنے کا حیران کن فیصلہ کیا جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کافی سوالات اٹھے ہیں۔مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میں ہندستان اور نیوزی لینڈ کے پہلے سیمی فائنل میچ میں وراٹ نے آخری الیون میں صرف ایک تبدیلی کرتے ہوئے چائنامین بولر کلدیپ یادو کی جگہ يجویندر چہل کو اتارا، لیکن کمال کی فارم میں کھیل رہے فاسٹ بولر سمیع کو اس میچ کے لئے باہر رکھا گیا جو افسوسناک فیصلہ رہا۔میچ سے پہلے تک سمیع کے آخری الیون میں کھیلنے کی پوری امید تھی لیکن ٹیم مینجمنٹ اور کپتان وراٹ نے بھونیشور کو ٹیم میں برقرار رکھا۔ بھونیشور سری لنکا کے خلاف گزشتہ میچ میں کھیلے تھے جبکہ سمیع گزشتہ میچ میں ٹیم میں شامل نہیں تھے۔ یہ فیصلہ افسوسناک رہا کیونکہ گروپ مرحلے میں سمیع نے صرف چار ہی میچوں میں خود کو ثابت کرتے ہوئے 5.48 کے اکونومي ریٹ سے 14 وکٹ نکالے اور ٹیم کے دوسرے سب سے زیادہ کامیاب بولر ہیں۔ ان سے آگے جسپريت بمراہ ہیں جن کے اس میچ سے پہلے تک آٹھ گروپ میچوں میں 17 وکٹ ہیں۔29 سال کے سمیع اسی کے ساتھ عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک لینے والے بھی صرف دوسرے ہندوستانی بولر بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے صرف چیتن شرما کے نام یہ کامیابی درج تھی۔ سمیع نے افغانستان کے خلاف مشکل میچ میں آخری اوور میں بولنگ کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک لی تھی جبکہ انگلینڈ کے خلاف انہوں نے پانچ وکٹ نکالے تھے۔سمیع کو باہر رکھنے پر سوشل میڈیا پر گرم بحث چل رہی ہے کہ ایسے کھلاڑی کو کس طرح باہر رکھا جا سکتا ہے جبکہ اس نے مسلسل اچھی کارکردگی کی ہے۔ سمیع نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے پچھلے مقابلے میں 68 رن دے کر ایک وکٹ لیا تھا جبکہ بھونیشور نے سری لنکا کے خلاف گزشتہ میچ میں 73 رنز لٹاکر ایک وکٹ لیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اسی فرق کی بنیاد پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر دونوں گیند بازوں میں اتنا فرق ہے تو پھر آخری انتخاب میں سمیع نظرانداز کیسے ہو گئے۔

About the author

Taasir Newspaper