ہندستان ہندوستان

مذہبی مقامات پر وشاکھا گائیڈلائنس نافذ کرنے سے متعلق عرضی مسترد

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 23-July-2019

نئی دہلی‘  (یو این آئی) سپریم کورٹ نے کام کے مقامات پر جنسی استحصال روکنے سے متعلق ’وشاکھا گائیڈلائنس‘ کو مذہبی مقامات پر بھی نافذ کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایت دینے کے سلسلے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کو آج مسترد کردیا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذہبی مقامات کے لئے جنسی استحصال کی شکایتو ں کا ازالہ کرنے کے لئے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی۔جسٹس گوگوئی نے کہا کہ ’ہم مذہبی مقامات کو وشاکھا گائیڈلائنس کے دائرہ میں نہیں لاسکتے۔“عرضی گذار منیش پاٹھک نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک بھر کے آشرموں‘ مدرسوں اور کیتھولک اداروں جیسے مذہبی مقامات پرخواتین کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لئے وشاکھا گائیڈلائنس نافذکرنے کے لئے ہدایات جاری کی جائیں۔عدالت نے حالانکہ عرضی گذار کو اس کے سلسلے میں متعلقہ اتھارٹی کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔مسٹر پاٹھک نے اپنی درخواست کی تائیدمیں ڈیرا سچا سودا‘ آسارام آشرم اور دیگر مذہبی مقامات میں خواتین کے جنسی استحصال کے واقعات کا حوالہ دیا تھا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ ایسے مقامات پر خواتین کی شکایتوں کے لئے کوئی نظم نہیں ہے اس لئے وشاکھا گائیڈلائنس کو ان مقامات پر بھی نافذ کیا جاناچاہئے۔

About the author

Taasir Newspaper