دنیا بھر سے

ٹرمپ کی تنقید کے بعد امریکہ میں تعینات برطانوی سفیر مستعفی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-July-2019

واشنگٹن،یامریکہ میں تعینات برطانوی سفیر کم ڈیروک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔برطانوی سفیر نے یہ استعفیٰ اپنی وہ سفارتی خط و کتابت منظرِ عام پر آنے کے بعد دیا ہے جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو نااہل قرار دیا تھا۔برطانوی سفیر کے یہ خطوط منظرِ عام پر آنے کے بعد گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اس پر سخت برہمی ظاہر کی تھی۔منگل کو اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں صدر نے برطانوی سفیر کو “احمق” اور “بے وقوف” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت کم ڈیروش سے کوئی رابطہ نہیں رکھے گی۔امریکی صدر نے سفیر کے لیے حمایت کا اظہار کرنے پر برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا اور انہیں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق جاری تنازع کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔برطانوی سفیر کی جانب سے لندن میں برطانوی وزارتِ خارجہ کو لکھے گئے میموز اتوار کو ایک برطانوی اخبار نے شائع کیے تھے۔ان میموز کے ذریعے برطانوی سفیر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت سے متعلق اپنے خیالات لندن میں برطانوی حکومت کے ذمہ داران تک پہنچائے تھے۔بدھ کو پیش کیے جانے والے اپنے استعفے میں کم ڈیروک نے لکھا ہے کہ سفارت خانے کے سرکاری دستاویزات افشا ہونے کے بعد سے ان کی ذمہ داری اور اس کی مدت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔برطانوی سفیر نے لکھا ہے کہ ان حالات میں ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دینا ممکن نہیں رہا۔بعد ازاں لندن میں پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے کہا کہ انہوں نے کم ڈیروک سے بات کی ہے اور ان کے مستعفی ہونے کے فیصلے پر انہیں بہت افسوس ہے۔تھریسا مے نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے اور ان کی پوری کابینہ نے منگل کو کم ڈیروک پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جس کے وہ حق دار تھے۔ انہوں نے انہیں ایک بہترین سفارت کار قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

About the author

Taasir Newspaper