ہندستان ہندوستان

انڈین مجاہدین تنظیم کے رکن ہونے کے الزام میں گرفتاڈاکٹر انور کو10؍ سال بعد ضمانت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-August-2019

ممبئی(پریس ریلیز) انڈین مجاہدین نامی ممنوعہ تنظیم کے رکن ہونے کے الزام میں گذشتہ10؍برسوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزم ڈاکٹر انور علی باغبان کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب بامبے ہائی کورٹ نے اسے دو الاکھ روپئے کے ذاتی مچلکہ پر مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ آج ملزم کو ممبئی ہائی کورٹ کی جسٹس ریوتے ڈیرے نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔انہوں نے کہا کہ ملزم کی درخواست ضمانت پر بحث کرتے ہو ئے ایڈو کیٹ مبین سولکر نے ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ریویتی موہیتی ڈیرے کو بتلایا کہ ملزم کا بم دھماکوں سے قبل میڈیا ہائوس کو ای میل بھیجنے سے کوئی لینا دینا نہیںنیز ملزم کی گرفتاری کے وقت انڈین مجاہدین نامی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا گیا تھا ۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے مزید کہا کہ متذکرہ معاملے میں ملزم کے خلاف سوائے اس کے اقبالیہ بیان اور دیگر ملزمین کی جانب سے دیئے گئے مبینہ اقبالیہ بیان کے علاوہ کوئی ثبوت موجود نہیں ہے نیز10 سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی ملزم کے خلاف قائم مقدمہ کی سماعت عمل میں نہیں آئی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں عدالت نے متعدد ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا ہے جن کے خلاف سنگین الزامات استغاثہ نے عائد کیئے تھے لہذا یکسانیت کی بنیاد پر عرض گذار کو بھی ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔ حالانکہ جسٹس ڈیرے کے سامنے وکیل استغاثہ راجاٹھا کر ے نے سخت لفظوں میں ضمانت عرضداشت کی مخالفت کی اور کہا کہ انڈین مجاہدین معاملے میں ملزمین کے خلاف سنگین معاملات ہیں اور یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا معاملہ ہے جسمیں بظاہر تو ثبوت و شواہد نظر نہیں آئیں گے لیکن باریک بینی سے مطالعہ کے بعد یہ ثابت ہوجائے گا کہ ملزم دہشت گردانہ کارروائی میں ملو ث تھا نیز ملزم نے بم دھماکوں کی ٹریننگ لینے پاکستان بھی گیا تھا ۔ کئی سماعتوں تک چلی فریقین کی بحث کے بعد جسٹس ڈیرے نے دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر انور علی کواس مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔ اس مقدمہ کے تعلق سے گلزار اعظمی نے کہا کہ انڈین مجاہدین نامی دہشت گردانہ معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے23؍ اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے او ر چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن وہ گذشتہ10؍ برسوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ اس معاملے میں گرفتار چند ملزمین کی جانب سے کچھ لوگ اپنی سستی شہرت اور منفعت زر کی خاطر چارج فریم نہیںہونے دیا جس کی وجہ سے دیگر ملزمین کو جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملز م کی ضمانت پر رہائی کے بعد جمعیۃ اپنے سینئر وکلاء سے مشورہ کر کے دیگر ملزمین کی درخوا ست ضمانت کے تعلق سے غور کر یگی ۔انہوں نے اس کامیابی پر دفاعی وکلاء ایڈو کیٹ مبین سولکر، طاہیرہ قریشی، یعقوب شیخ ود یگر کو مبارکباد پیش کی ہے ۔واضح رہے 2008 میں ممبئی کرائم برکی جانب سے انڈین مجاہدین نامی دہشت گرد انہ معاملے میں گرفتار کیئے گئے ملزمین پر الزام ہیکہ انہوں نے گجرات میں ہوے سلسلہ وار بم دھماکوں سے پہلے اور بعد میں ٹی وی چینلوں اور میڈیا ہائوس کو ای میل رانہ کر کے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور پولس نے مبینہ طور پر ان کے قبضوں سے ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی بر آمد کرنے کا دعوی کیا تھا ۔

About the author

Taasir Newspaper