دنیا بھر سے

برطانیہ: قطر کے “الریان” بینک کے ساتھ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 24-August-2019

لندن،برطانیہ میں مالیاتی حکام قطر کے “الریان بینک” کے ساتھ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف برطانوی اخبار Times The نے جمعرات کے روز کیا۔اخبار کے مطابق فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی FCA کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک برطانیہ کے سب سے پرانے اور سب سے بڑے اسلامی بینک “الریان” کے آپریشن پر بعض قیود لگا دی گئی ہیں۔اس سے قبل مذکورہ اخبار نے الریان بینک کے کئی مالی صارفین کے بعض مغربی بینکوں میں کھاتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جنہیں سیکورٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے سبب منجمد یا بلاک کر دیا گیا۔اخبار کے مطابق الریان بینک میں کھاتوں کے مالکان کی فہرست میں ایک چیریٹی تنظیم بھی شامل ہے جس پر امریکا میں پابندی عائد ہے۔ واشنگٹن اس ادارے کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مسجد جس کا سیکریٹری ایک طویل عرصے تک حماس تنظیم کے سیاسی بیورو کا رکن رہا اور ایک شدت پسند مبلغ کے زیر قیادت سیٹلائٹ چینل کی مالیاتی اتھارٹی بھی فہرست میں شامل ہے۔برطانوی فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی نے گذشتہ برس تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اب اس کے نتائج کا انتظار ہے۔ اس دوران قطری بینک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متعدد فوری اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں کسی بھی ایسے فریق کا مالی اکاؤنٹ نہ کھولنا جس کو فوجداری نوعیت کے مالیاتی جرائم کے سنگین خطرات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہو اور سیاسی اہمیت کی حامل شخصیات اور ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے کھاتے کھولنے کی درخواستوں کو مسترد کر دینا شامل ہے۔الریان بینک کے 70% حصص قطر کے دوسرے سب سے بڑے بینک “مصرف الریان” کے پاس ہیں۔ بینک کے بقیہ 30% حصص قطر انویسٹمنٹ کی ملکیت ہیں جو قطرWealth Sovereign فنڈ کے زیر انتظام کمپنی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper