معاشی مورچے پر حکومت بے سمتی اور سست روی کا شکار:کانگریس

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 19-August-2019

نئی دہلی،(یو این آئی) کانگریس نے معاشی مورچے کے سلسلے میں نریندر مودی حکومت پر ’بے سمتی‘ اور ’سست روی‘ کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کے دن کہا کہ اسے ملکی معیشت کی حقیقی صورت حال عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئے۔کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں کی ایک کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں سست روی کا شکار ہوگئیں ہیں اور اس کی کوئی سمت نہیں ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں کے تعلق سے تفصیلات پیش کرتے ہوئےکہا کہ حکومت کو حقیقی صورت حال ملک کے سامنے رکھنی چاہئے۔ حکومت معیشت کو ساتویں آسمان پر پہنچانے کی بات کررہی ہے جبکہ حقیقت میں معیشت تحت الثری کی طرف جارہی ہے۔مسٹر سنگھوی نے کہا کہ معیشت میں مندی کی صورتحال بہت پہلے سے ہے اور حکومت کو عام بجٹ میں اسے بہتر کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں تھے لیکن اسے وہ بھول گئی۔ بازار میں سرمایہ کے بحران پر انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے شرحوں میں تخفیف کی ہے لیکن اس کا فائدہ بینک عوام کو نہیں دے رہی ہے۔ بینکوں پر حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے اس لئے اسے اس سمت میں اقدام کرنے چاہیئں۔ حکومت پر معاشی اعدادوشمار چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹو شعبہ پیداوار کے معاملے میں 40 سال میں گراوٹ کا سامنا کررہی ہے اور ماروتی اور اشوک لیلینڈ جیسی بڑی کمپنیاں اپنے ملازموں میں تخفیف کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس کا براہ راست اثر روزگار کے مواقع پر پڑے گا۔شیئر بازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ تعمیری شعبہ میں مندی کاکا دور ہے اور مکانات کے فروخت کا وقت 80 مہینوں کا ہوچکا ہے۔ تیس اہم شہروں میں 13 لاکھ مکانات خالی پڑے ہیں۔مسٹر سنگھوی نے کہا کہ جی ڈی پی کے اعدادوشمار چھپائے جارہے ہیں۔ حقیقی معاشی شرح 5ء6 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ ملک کی معیشت دنیا کی پانچویں مقام سے ساتویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں سے بے روزگاری کے اعداد وشمارشائع نہیں کررہی ہے۔ہندوستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آرہی ہے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں مسلسل کریڈٹ میں کمی کررہی ہے جو اس کا مظہر ہے کہ حکومت کے کام کاج میں شفافیت کی کمی ہے۔ روپے میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے اور یہ ایشیا کی سب سے کمزور کرنسی ہوگئی ہے۔ حالانکہ اس سے برآمدات میں اضافہ ہونا چاہئے لیکن اس میں بھی گراوٹ آرہی ہے۔مسٹر سنگھوی نے کہا کہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری اور غیر ملکی کمپنیوں کے سرمایہ کاری میں کمی آرہی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک ’سنگین ایمرجنسی‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکومت عوام کے ساتھ ’آنکھ مچولی‘ کاکھیل رہی ہے اور وزیراعظم اور ان کے معاون جملے بازی میں مصروف ہیں۔