سیاست سیاست

بھوپال میں ’دگوجے کیلئے مندر کے دروازے بند ہوں‘ کے پوسٹر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 20-September-2019

بھوپال،(ایجنسی): کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کے بھگوا پہن کر مندر میں عصمت دری کرنے والے بیان کو لے کر پردیش کی راجدھانی بھوپال میں اب ان کے خلاف پوسٹر وار شروع ہو گیا ہے۔ جمعرات کو بھوپال کے کئی مندروں سے باہر دگ وجے سنگھ کے خلاف پوسٹر لگائے گئے ہیں، جن میں لکھا ہوا ہے کہ انہیں مندروں میں داخل نہیںہونے دیا جائے۔اس سے قبل بدھ کو شیوراج حکومت میں وزیر رہے اور موجودہ بی جے پی ممبر اسمبلی وشواس سارنگ نے کہا تھا کہ ذاکر نائک کو امن کا پیامبربنانے والے دگوجے شروع سے ہندو مذہب کے مخالف ہیں۔ بھگوا کو دہشت گردی کہہ کر ملک بھر میں بدنام کرنے والے دگ وجے سنگھ ہی ہیں۔ انہیں کسی بھی مندر میں داخلہ پر روک ہونا چاہئے۔ ان پوسٹروں کو اب بی جے پی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس معاملے میں بی جے پی کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے، لیکن کمل ناتھ حکومت دگ وجے سنگھ کا دفاع کرتے نظر آ رہی ہے۔اس معاملے میں کوآپریٹیو وزیر گووند سنگھ نے کہا ہے کہ دگوجے سنگھ سے بڑا کوئی مذہبی رسم رواج کو ماننے والا شخص مدھیہ پردیش میں نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے ہی دگوجے سنگھ نے گووردھن پروت کی پیدل طواف کی تھی۔ ماں نرمد کی پریکرما بھی انہوں نے پیدل کی۔ وزیر نے اس معاملے میں بی جے پی پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مخالف سرٹیفکیٹ دینے کا ٹھیکہ بی جے پی نے لے رکھا ہے۔ وہ ہندوؤں کے نام پر سیاست کرتی ہے۔ دگ وجے نے جو بیان دیا وہ سب کے لئے نہیں دیا۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ منگل کو بھوپال میں منعقد سنتوں کے اجلاس میں دگ وجے سنگھ نے کہا تھا کہ بھگوا لباس پہن کر لوگ چورن بیچ رہے ہیں۔ لوگ بھگوا لباس پہن کر عصمت دری کر رہے ہیں۔ مندروں میں عصمت دری کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا یہی ہمارا مذہب ہے۔

About the author

Taasir Newspaper