سیاست سیاست

ملک کی قابل فخر تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت:شاہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 18-Oct-2019

وارانسی،(یواین آئی)دنیا میں ہندوستانی ثقافت کو اول مقام دلانے کا سہرا موریہ ونش اور گپت ونش کو دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سمراٹ اسکندگپت کی طاقت اور حکومت چلانے کے ان کے فن کا ذکر کئے جانے اور ملک کی قابل فخر تاریخ کو ریفرنس بک بناکر پھر سے لکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔مسٹر شاہ نے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو)میں جمعرات کو’ گپت ونش:ویر اسکندگپت وکرم آدتیہ ‘موضوع پر منعقد دوروزہ بین الاقوامی سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مہابھارت دور کے دو ہزار سال بعد 800سال کی مدت کو دو اہم حکومتی انتظامیہ موریہ ونش اور گپت ونش کی وجہ سے جانا گیا۔دونوں ونشوں نے ہندوستانی ثقافت کو اس وقت دنیا میں سب سے اونچے مقام پر پہنچا دیا۔انہوں نے کہا کہ گپت سلطنت کی سب سے بڑی کامیابی ہمیشہ کےلئے ویشالی اور مگدھ سلطنت کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کر کے اٹوٹ ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔چندر گپت وکرم آدتیہ کو شہرت ملنے کے باوجود لگتا ہے کہ ان کے ساتھ تاریخ میں بہت ناانصافی ہوئی ہے۔ان کی ہمت اور طاقت کی جتنی ستائش ہونی تھی شاید وہ نہیں ہوئی سمراٹ اسکند گپت نے ہندوستان کی ثقافت، زبان، فن، ادب،حکومتی نظام، شہروں کی تعمیر کےنظام کو ہمیشہ بچانے کی کوشش کی ہےلیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ آج اسکندگپت پر مطالعے کےلئے کوئی 100پیج بھی مانگے گا تو دستیاب نہیں ہیں۔وزیرداخلہ نے تاریخ سازوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی قابل فخر تاریخ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنےو الے انگریزوں اور بائیں بازو محاذ کے لوگوں کو کوسنا بند کریں اور اس تاریخ کو سچ کی بنیاد پر لکھیں جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper