ہندستان ہندوستان

کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال کے ڈھائی ماہ مکمل، تاریخی جامع مسجد کے محراب ومنبر مسلسل خاموش

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 19-Oct-2019

سری نگر،(یو این آئی) وادی کشمیر میں جہاں جمعہ کے روز غیر اعلانیہ ہڑتال کے ڈھائی ماہ پورے ہوئے تو وہیں پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع 6 سو سالہ قدیم اور وادی کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی حیثیت رکھنے والی تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب مسلسل ڈھائی ماہ سے خاموش ہیں جس کے باعث ہزاروں فرزندان توحید نماز جمعہ کی ادائیگی اور خطبہ جمعہ کے فیض سے محروم ہورہے ہیں۔ادھر جمعہ کے روز حکام نے پائین شہر کے بعض علاقوں بشمول نوہٹہ میں تازہ پابندیاں عائد کی تھیں اور لوگوں کی تاریخی جامع مسجد کی طرف آزادانہ نقل وحمل پر قدغن لگائی تھیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پائین شہر میں لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لئے بنا بر احتیاط پابندیاں عائد کی گئی ہیں جنہیں ہفتے کی صبح تک ہٹایا جائے گا بشرطیکہ حالات اجازت دیں۔جمعہ کے روز تاریخی جامع مسجد کے گرد وپیش سیکورٹی کے حصار کو مزید سنگین کیا گیا تھا اور جامع کے اندر اور باہر بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز کی نفری کو تعینات کیا گیا تھا تاکہ کوئی بھی نمازی جامع کی طرف پیش قدمی نہ کرسکے۔پائین شہر کے خانیار میں واقع دستگیر صاحب روڑ کو خاردار تار اور چوراہوں پر سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں سے سیل کیا گیا تھا اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل کو محدود کیا گیا تھا۔حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق پانچ اگست سے مسلسل نظر بند ہیں۔ پانچ اگست کو پہلے انہیں گرفتار کرکے حراست میں لیا گیا بعد ازاں انہیں نگین میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہی خانہ نظر بند رکھا گیا ہے۔بتادیں کہ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد میر واعظ عمر فاروق کی مذہبی و سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ مانی جاتی ہے اور وہ نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل ایک خاص خطبہ دیتے ہیں۔ادھر وادی میں جمعہ کو مسلسل 75 ویں دن بھی معمولات زندگی متاثر رہے، بازار بند اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا تاہم نجی گاڑیوں کی نقل وحمل میں آئے روز اضافہ درج کیا جارہا ہے کیونکہ لوگوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث نجی گاڑیوں کا زیادہ استعمال کرنا شروع کیا ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں نئی دو پہیہ یا چار پہیہ والی گاڑیاں خریدی گئی ہیں۔وادی میں ریل سروس بھی گزشتہ ڈھائی ماہ سے لگاتار بند ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ریل خدمات کو پولیس و مقامی انتظامیہ کی طرف سے موصولہ ہدایات کے پیش نظر بند رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سروس بند رکھنے سے محکمے کو ہورہے نقصان خاص کر عوام کو درپیش مشکلات کا شدت کے ساتھ احساس ہے لیکن سروس کو لوگوں کے تحفظ اور ریلوے عملے اور املاک کی حفاظت کے پیش نظر ہی بنا بر احتیاط معطل رکھا گیا ہے۔شہر سری نگر کے حساس علاقوں میں جمعہ کے پیش نظر بھاری سیکورٹی بندوبست کے بیچ صبح کے وقت دکانیں کھلی رہیں اور سڑکوں پر نجی گاڑیوں کے ساتھ سومو اور ایس آر ٹی سی گاڑیوں کی جزوی نقل وحمل بھی دیکھی گئی۔سری نگر کے تاریخی لالچوک کے علاوہ کئی علاقوں میں بر لب سڑک چھاپڑی فروشوں کو بھی دیکھا گیا۔وادی کے دیگر ضلع و قصبہ جات میں بھی صبح یا شام کے وقت اگرچہ دکانیں کھلی رہیں لیکن بعد ازاں دن بھر بازاروں میں الو بولتے رہے اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا تاہم تمام ضلع صدر مقامات اور قصبہ جات میں نجی ٹرانسپورٹ حسب معمول جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper