دنیا بھر سے

ایران میں طاقت ور زلزلہ: متعدد ہلاکتیں، سینکڑوں افراد زخمی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 09-Nov-2019

تہران،ایران میں آج جمعہ آٹھ نومبر کو علی الصبح آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ یہ زلزلہ ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان میں آیا اور ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت پانچ اعشاریہ نو تھی۔ملکی دارالحکومت تہران سے موصولہ خبروں کے مطابق حکام نے بتایا کہ اس زلزلے کے نتیجے میں فوری طور پر کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زلزلے کے یہ جھٹکے مقامی وقت کے مطابق علی الصبح دو بج کر سترہ منٹ پر تہران سے 250 میل (تقریبآ 400 کلومیٹر) شمال مشرق کی طرف واقع ایک علاقے میں محسوس کیے گئے۔زلزلے کے بعد بہت سے خوف زدہ مقامی باشندے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ بڑے جھٹکوں کے بعد کچھ کم شدت کے 40 سے زیادہ ضمنی جھٹکے بھی محسوس کیے گئے، جنہوں نے صوبے مشرقی آذربائیجان میں البرز کے پہاڑی علاقے میں واقع متاثرہ علاقے کو کئی بار ہلا کر رکھ دیا۔سرکاری ٹیلی وڑن نے بتایا کہ آخری خبریں آنے تک زخمیوں کی تعداد 312 ہو چکی تھی، جس میں سے اکثریت معمولی زخمی ہوئی۔ شدید زخمی ہونے والے ایسے افراد کی تعداد کافی کم تھی، جو اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو چوٹیں اس وقت آئیں، جب وہ خوف کے عالم میں اپنے گھروں سے دوڑ کر باہر نکل رہے تھے۔اس زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمی ہونے والے شہریوں سے متعلق ان اعداد و شمار کی ملک کی ہنگامی طبی خدمات کے شعبے کے سربراہ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقے کی طرف روانہ کی جا چکی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس زلزلے سے درجنوں گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ان جھٹکوں کا مرکز زمین میں 10 کلومیٹر (6.2 میل) کی گہرائی میں تھا۔ایران جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں اوسطآ ہر روز ایک بار زلزلہ آتا ہے۔ سن 2003 میں ایران کے تاریخی شہر بام میں آنے والے ریکٹر اسکیل پر 6.6 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 26 ہزار انسان مارے گئے تھے۔دو سال قبل 2017ء میں بھی ایران کے مغربی حصے میں ایک بہت طاقت ور زلزلہ آیا تھا۔ ریکٹر اسکیل پر سات کی شدت کے اس زلزلے کے باعث 600 سے زائد ایرانی شہری ہلاک اور نو ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

About the author

Taasir Newspaper